پنجاب کے معاملے پر عدالتی فیصلے پر نظر ثانی یا سو موٹو ایکشن لیا جائے ،عمران خان اور ا س کے ساتھی چاہتے ہیں پاکستان آگے نہ بڑھے ؛رانا ثنا اللہ،خواجہ سعد رفیق کی مشترکہ پریس کانفرنس

8

لاہور،24دسمبر  (اے پی پی):پاکستان مسلم لیگ (ن)اور اتحادیوں نے پنجاب کی صورتحال پر لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار اور اسے چیلنج کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب کے معاملے پر عدالتی فیصلے پر نظر ثانی یا سو موٹو ایکشن لیا جائے ، عمران خان نے جو تباہی کی وہ ختم نہیں ہوئی ، ہم اس کو ریورس کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،پنجاب میں جو اقلیت میں چلے گئے ہیں انہیں کیسے اجازت دی جا سکتی ہے کہ وہ آئین پر عملدرآمد نہ کریں ، عمران خان اور ا س کے ساتھی چاہتے ہیں پاکستان آگے نہ بڑھے اوربار بار جمہوری نظام پر حملے کرتے ہیں،اعتماد کا ووٹ لیں اور پنجاب اسمبلی تحلیل کر دیں ، آج یہ اپنے لوگوں کو دو ، دو ارب روپے کی پیشکش کر رہے ہیں ، انتخابات مقررہ وقت پر ہوں گے،یہ جس اسمبلی کو تحلیل کریں گے وہاں پر انتخابات کر ادیں گے۔

 ان خیالات کا اظہار وفاقی وزرا خواجہ سعد رفیق اور رانا ثنا اللہ نے ہفتہ کے روز یہاں پارٹی سیکرٹریٹ ماڈل ٹائون میں اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ، عطا اللہ تارڑ ،عظمی بخاری، رانا ارشد سمیت دیگر بھی موجود تھے۔

وزیر داخلہ رانا ثنااللہ خان نے کہا کہ تین چیزوں کا عمران خان نے اعلان کیا تھا کہ ہم یہ کام کرنے جارہے ہیں، پنجاب اسمبلی ، خیبر پختوانخواہ اسمبلی کو توڑیں گے،ہم قومی اسمبلی میں پیش ہو کر اپنے استعفے ٹینڈر کریں گے جنہیں قبول کیا جائے ، پنجاب میں گورنر نے آپ سے کہا کہ آپ اسمبلی توڑنے سے پہلے اعتماد کاووٹ لیں ، یہ ان کی آئینی ذمہ داری اورفرض تھا ،ایک ایساوزیر اعلی جو ایک ہی سانس میں کہتا ہے کہ پارلیمانی پارٹی کے 99 فیصد اراکین اسمبلی توڑنے کے حق میں نہیں ،میں سمری پر دستخط کر کے دے آیا ہوں ۔انہوں نے کہا کہ اسمبلیاں آئینی ادارے ہیں یہ جمہوریت کی اساس ہیں ، ایک آدمی کہتا ہے کہ ممبران کی 99فیصد تعداد اسمبلی توڑنے کے حق میں نہیں ہے لیکن اسمبلی کو کسی کی ضد ،انا اورگھٹیا سیاست کی نظر کیا جارہا ہے ۔

وزیر داخلہ رانا ثنااللہ خان  نے کہا کہ آئینی اتھارٹی گورنر ہے ان کا فرض بنتا ہے کہ اگر آپ نے آئینی ادارے کا مذاق اڑانا ہے تو آپ اعتماد کاووٹ لیں ، آپ نے اعتماد کا ووٹ نہیں لیا اورگریزاں ہوئے ، کس کو نہیں معلوم کہ سپیکر نے کیوں اجلاس نہیں بلایا،سپیکر کا کیا جھگڑ اچل رہا تھا ،اس لئے ان کے پاس اکثریت نہیں ہے ، گورنر کا جو آئینی حق تھا انہوں نے اسے ایکسر سائز کیا ۔ ہائیکورٹ نے فیصلہ کیا ہے لیکن کبھی ایسا فیصلہ نہیں ہوا کہ عبوری ریلیف میں متبادل ریلیف دیدیں ، ہم بھی قانون کے طالبعلم ہیں کبھی عدالتیں اس طرح نہیں کرتیں الٹی میٹ ریلیف مانگیں تو عبوری ریلیف دیدیا جائے۔ انہوں نے تو کہا تھاکہ ہمیں بحال کیا جائے ، عبوری ریلیف دیدیا گیا ،اس میں قانونی آئینی پیچیدگیاں ہیں جس سے ملک اور پنجاب بڑی بری طرح سے متاثر ہوگا۔

وزیر داخلہ  نے کہا کہ دو روز پہلے ایک ایسا آرڈر کیا گیا کہ پورے پنجاب میں خاص طور پر لاہور میں گرین اور برائون ایریاز کے حوالے سے فیصلہ کیا گیا اور باپ ،بیٹے نے اربوں روپے کی دیہاڑی لگائی ،18دن ہیں اورایک ایک دن پنجاب کے خزانے پر بھاری گزرے گا ،ان دنوں میں اراکین کو موقع دیا جائے گا کہ جو ڈیڑھ ڈیڑھ ارب کے فنڈز دئیے ہیں ٹھیکیداروں سے کہیں گے جائو کمیشن لے کر اپنی جیبوں میں ڈالو ، اس سے ہارس ٹریڈنگ اور کرپشن کا بازار گرم ہوگا،اگر ہائیکورٹ نے عبوری ریلیف دینا تھا توآرٹیکل 133موجود ہے ان کو محدود کر کے اجازت دیتے ، اتحادی یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ عدالت عظمی کو اس میں مداخلت کرنی چاہیے اورسو موٹو ایکشن لینا چاہئے ،پنجاب کو اس معاشی اور اس کرپشن کی تباہی سے بچائیں ۔

 رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ہم کسی طور پر بھی ہارس ٹریڈنگ میں شریک نہیں ہوں گے ، اعتماد کے ووٹ کیلئے اپنے بندوں کو انہوں نے لے کر جانا ہے ، یہ اپنے بندوں کولالچ دے کر فنڈز دے کر پیسے دے کر اس بات پر راضی کر رہے ہیں کہ ان کا ساتھ دیں ، انہوں نے اپنے ہی بندوں میں سے ہی 186 ارکان پورے کرنے ہیں ، نہ ہم ان کا کوئی بندہ لے جا سکتے ہیں اور نہ یہ ہمارا لے جا سکتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ خیبر پختوانخوا حکومت چھ ،سات ماہ سے غائب ہے ، یہ کبھی راولپنڈی میں انسانوں کا سمندر اکٹھا کرنے میں لگی ہوئی ہے کبھی لانگ مارچ کے لئے لوگوں کو اکٹھاکرتی ہے اور کبھی کسی ریلی میں ہوتی ہے ، آج کل زمان پارک میں بیٹھی ہوئی ہے، سی ٹی ڈی کا یہ حال ہے انہیں کئی ماہ کی تنخوا نہیں ملیں، پولیس وہاں پر دفاع نہیں کر پا رہی اور خطرناک صورتحال ہے جو پورے ملک کو متاثر کر رہی ہے ، انہیں اس بات کا احساس ہی نہیں اور یہ سیاسی لڑائی میں پڑے ہوئے ہیں ۔

خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کا یہ موقف رہا کہ منتخب حکومت  کو اپنی مدت پوری کرنی چاہیے ، ہم آئینی تبدیلی کے ذریعے عمران خان کی حکومت کو نکال کر وفاقی حکومت میں آئے تھے اور اس کے لئے آئینی پراسیس کو فالو کیا گیا، اتحادیوں نے ایک ایسے موقع پر حکومت سنبھالی تھی جب ملک دیوالیہ ہونے کے کنارے پر کھڑا تھا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کی پونے چار سال کی حکومت کی پالیسیوں نے پاکستان کو ڈیفالٹ اور فالٹ دونوں لائنزپرکھڑا کر دیا تھا،ان کے سارے گناہوں اور خرابیوں کا بوجھ ہم نے اٹھایا، ہم نے اپنی سیاست دائو پر لگائی لیکن ریاست کا دفاع کیا ،وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں ملک کو خطرناک صورتحال سے واپس لائے ، وہ دن گیا آج کا دن آیا عمران خان اورتحریک انصاف نے ہمیں کام نہیں کرنے دیا ، یہ کبھی راستے میں سرنگیں بچھاتے ہیں، کبھی گڑھے اورکہیں کھائیاں کھودتے ہیں اور اس کی کئی مثالیں موجود ہیں، اس کی سب سے کلاسیکل مثال شوکت ترین کی صوبائی وزیر  خزانہ کو ٹیلیفون کال ہے جو پوری قوم نے سنی ، وہ کہہ رہے ہیں آپ نے آئی ایم ایف کو لکھنا ہے کہ وفاقی حکومت جوبات کر رہی ہے ہم اس کو تسلیم نہیں کرتے تاکہ آئی ایم ایف کا تالہ کھلے اور نہ ہی مالیاتی ادارے پاکستان کی مدد کریں اور پاکستان ڈیفالٹ کرجائے ۔

 خواجہ سعد رفیق  نے کہا کہ عمران خان نے شور مچایا ہوا تھاکہ اسمبلیاں ٹوٹنی چاہیں اورقبل از وقت انتخابات ہونے چاہیں،اسمبلیاں توڑنا بچوں کا کھیل نہیں ، یہ کھلونا نہیں ہے کہ جب دل چاہا بنا لیا اور جب دل چاہا توڑ دیا ، صورتحال یہ ہے کہ جب گورنر نے محسوس کیا کہ وزیر اعلی پنجاب کواعتماد کا ووٹ لینا چاہیے انہوں نے اپنی آئینی ذمہ داری ادا کی اور انہیں اعتماد کے ووٹ کا کہا گیا لیکن انہوں نے اس سے گریز کیا، ان کو اس کے لئے باقاعدہ وقت دیا گیا ،پرویز الہی کے پاس اکثریت نہیں اور جس کے پاس اکثریت نہیں وہ قائد ایوان نہیں ہوسکتا اور یہ ہم نہیں آئین کہتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ آئینی آرڈر کو نہیں مانا گیا جس پر گورنر نے اپنے قانونی و آئینی اختیارات استعمال کرتے ہوئے انہیں ڈی نوٹیفائی کیا ،اسے لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا اور جو فیصلہ آیا ہے اس میں خلا ہے اور ہم سمجھتے ہیں یہ انصاف کے تقاضے پورے نہیں کرتا ، ہم ادب سے گزارش کرتے ہیں کوئی فرد یا ادارہ آئین سے رو گردانی نہیں کر سکتا ۔

وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ نے کہاکہ ہم نے میٹنگ میں عدالتی فیصلے کی روشنی میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا ہے کہ کس طرح دیگر فورمز سے اپروچ کرنا ہے ،چوہدری شجاعت حسین نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ اسمبلیوں سے مذاق بند ہونا چاہیے ،عوام کے مینڈیٹ سے مذاق نہیں ہونا چاہیے ،پنجاب میں حکمران جو کر رہے ہیں اس میں ان کا کوئی کمال نہیں ہے ، ان کے پاس اکثریت نہیں ہے ،پی ٹی آئی کے اراکین غائب ہیں ،وہ لوگ سمجھتے ہیں اسمبلی توڑ کر اگر ایک سال پہلے گھروں میں چلے جائیں تو پتہ نہیں دوبارہ منتخب ہونا ہے یا نہیں،اتحادی اچھے فیصلے کریں گے تاکہ پنجاب کی نمائندگی بہتر انداز میں ہو ۔