چترال ؛ مکین ارکروئی کا دس سال سے بند سرکاری ڈسپنسری کھولنے کا مطالبہ

16

چترال،19دسمبر(اے پی پی): تحصیل دروش کے نہایت جنوب میں واقع ارندو روڈ پر آرکروئی گاؤں کے ہزاروں مکین صحت، تعلیم، مواصلات اور دیگر سہولیات سے محروم ہیں۔ اس علاقے میں سابق صوبائی وزیر بہبود آبادی سلیم خان چترالی نے ایک سول ڈسپنسری کیلئے فنڈ فراہم کرکے عمارت تعمیر کروائی مگر دس سال سے  ہسپتال کی یہ عمارت ابھی تک بند پڑی ہے۔

ویلیج کونسل آرکروئی لنگور بٹ کے ناظم قاری محمد دائم نے ہمارے نمائندے کو بتایا  کہ آرکروئی میں 2011 میں ایک سول ڈسپنسری تعمیر ہوئی ہے مگر بدقسمتی سے یہ ڈسپنسری ابھی تک بند پڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے بار بار ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر چترال اور ضلعی انتظامیہ کو درخواستیں دی ہیں کہ اسے کھول دیا جائے۔

ویلیج کونسل ارندو کی منتحب خاتون کونسلر  شان بی بی نے کہا کہ میں میرکھنی سے لیکر پاکستان کے آخری حصے یعنی ارندو تک خواتین کی نمائندگی کرتی ہوں مگر ہماری خواتین علاج معالجے اور تعلیم کے سلسلے میں نہایت مشکلات سے دوچار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس پورے یونین کونسل میں کوئی خاتون ڈاکٹر نہیں ہے بلکہ دیہی مرکز صحت ارندو کی لیڈی ہیلتھ ورکر بھی گھر بیٹھ کر تنخواہ لیتی ہے اور خواتین زچگی کے دوران اکثر فوت ہو جاتی ہیں۔

آرکروئی کے مقامی لوگوں نے ضلعی انتظامیہ، صوبائی سیکرٹری صحت، وزیر صحت اور وزیر اعلیٰ خیبر پحتون خواہ سے پرزورمطالبہ کیا ہے کہ ویلیج کونسل آرکروئی میں واقع دس سالوں سے بند ڈسپنسری کو فوری طور پر کھول دیا جائے اور زمین کے مالک کے ساتھ محکمہ صحت اپنا تنازعہ فوری ختم کرے تاکہ یہاں کے عوام کو اس ہسپتال کے کھولنے سے سہولیت میسر ہوسکیں بصورت دیگر یہاں کے مجبور عوام سڑکوں پر نکل آئیں گے اوراپنے جائز حق کیلئے راست قدم اٹھانے پر مجبور ہوں گے۔