ملتان،05جنوری(اے پی پی ): کمشنراشفاق احمد چوہدری کی زیر صدارت ترقیاتی سکیموں بارے جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر اشفاق احمد چوہدری نے بتایا کہ ترقیاتی سکیموں کی انسپکشن کا آغاز کیا جارہا ہے،سرکاری محکمے ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت اور معیار کو ترجیح بنائیں،وزیراعلی پنجاب ملتان ڈویژن کی ترقی میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔
کمشنر نے تمام سکیموں کی مقررہ وقت میں تکمیل کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ حکومت پنجاب کی جانب سے میگا پراجیکٹس پر خصوصی فنڈنگ کی جارہی ہے،رواں مالی سال کے اختتام تک مقررہ ہدف کے مطابق فنڈز استعمال کئے جائیں۔انہوں نے کہاکہ نشتر ٹو اور جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے منصوبوں پر کام کی رفتار بڑھائی جائے،روڈز اور انفراسٹرکچر کے منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کریں گے۔شہر کے پارکس، سیورج سسٹم کی بہتری کیلئے ترجیحی فنڈز جاری کئے گئے۔ترقیاتی محکمے بھرپور استعداد کار سے کام کریں۔
ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ ملتان ڈویژن روبینہ کوثر نے کہا کہ ڈویژن میں34339 ملین روپے کی 458 جاری اور 66 نئی سکیموں پر کام جاری ہے۔ابتک 18746 ملین روپے کے فنڈز جاری کئے جاچکے جبکہ 50 فیصد فنڈز استعمال کئے جاچکے ہیں۔کمشنر آفس ترقیاتی سکیموں بارے مکمل معاونت فراہم کررہا ہے۔جاری سکیموں میں محکمہ سکول ایجوکیشن کی 446 ملین روپے کی 7 سکیمیں،ہائر ایجوکیشن کی 1914 کی 9 سکیمیں،اسپیشل ایجوکیشن کی 225 ملین روپے کی 2 سکیمیں، سپیشلائزڈ ہیلتھ کئیر کی 18731 ملین روپے کی 4 سکیمیں،پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کی 2019 ملین روپے کی 19 سکیمیں، سوشل ویلفیئر کی 280 ملین روپے کی 4 سکیمیں،پبلک بلڈنگز کی 9171 ملین روپے کی 30 سکیمیں،آرکیالوجی کی 79 ملین روپے کی 1 سکیم،ریسکیو 1122 کی 247 ملین روپے کی 7 سکیمیں، انفارمیشن ٹیکنالوجی کی 62 ملین روپے کی 1 سکیم، محکمہ روڈز کی 31001 ملین روپے کی 113 سکیمیں، واٹر سپلائی کی 5185 ملین روپے کی 53 سکیمیں، لوکل گورنمنٹ کی 7004 ملین روپے کی 146 سکیمیں، اربن ڈویلپمنٹ کی 12787 ملین روپے کی 47 سکیمیں ، محکمہ سپورٹس کی 401 ملین روپے کی 4 سکیمیں، محکمہ ارگیشن کی 4185 ملین روپے کی 2 سکیمیں،محکمہ انرجی کی 494 ملین روپے کی 2 سکیمیں ، محکمہ زراعت کی 1033 ملین روپے کی 3 سکیمیں ،محکمہ جنگلات کی 99 ملین روپے کی 1 سکیم، محکمہ فوڈ کی 649 ملین روپے کی 2 سکیمیں ، ایم ڈی اے کی 28882 ملین روپے کی 1 سکیم شامل ہے۔
اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ارم شہزادی اور قومی تعمیراتی محکموں کے افسران موجود تھے۔











