کوشش  ہے  ٹی ٹی پی کو ٹیبل پر لایا جائے، پہلی شرط ہے کہ  وہ ہتھیار پھینک کر خود کو آئین کے تابع کریں ،، جو بھی دہشت گردی میں ملوث ہوگا ا س کے ساتھ زیرو ٹالرنس ہوگی ؛ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ خان

28

اسلام آباد،4جنوری(اے پی پی):وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ خان نے کہا ہے کہ   کوشش کی جارہی ہے کہ ٹی ٹی پی کو ٹیبل پر لایا جائے اس کے لئے پہلی شرط ہے کہ ہتھیار پھینک کر خود کو آئین کے تابع کریں ، جو بھی دہشت گردی میں ملوث ہوگا ا س کے ساتھ زیرو ٹالرنس ہوگی ،یکم جنوری تا 31 دسمبر 2022 تک  دہشت گردی کے ہونے والے واقعات کا 66 فیصد کے پی کے ، 31 فیصد بلوچستان ،سندھ میں 2 فیصد اور پنجاب میں   ایک فیصد ہے ، دہشت گردی  ،قومی سلامتی کمیٹی کے پلیٹ فارم سے یہ فیصلہ ہوا کہ سرحد پار سے فائرنگ کے واقعات پر کسی اور کی بجائے افغان حکومت سے بات    کی جائے ۔

 وہ بدھ کو اسلام آباد پولیس لائینز میں آئی جی اسلام آباد کے ہمراہ  پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے ۔ وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ خان نے کہا کہ  سید عدیل حسین کے اہلخانہ کو شہدا پیکیج فراہمی  کے لئے آیا ہوں ، یہ پیکیج شہید  کے خاندان کا حق ہے ، ایک  شہید قوم کا محسن ہوتا ہے ، جب شہید کا خون زمین پر گرتا ہے تو قوم کی تقدیر بدلتی اور مقدر چمکتا ہے  ، اس کے احسان کا کوئی بدلہ نہیں ہے۔  کم سے کم یہ بدلہ ہے کہ شہید کے اہلخانہ کو اتنا تحفظ دیا جائے   کہ وہ معاشرے میں اپنی دنیاوی ضروریات پوری  کرسکیں ۔ انہوں نے کہا کہ آج ایک کروڑ روپے کا چیک ،شہید کا بیوہ کے حوالے کر دیا ہے ، ایک کروڑ 25 لاکھ روپے ریاست مکان کے لئے فراہم کریگی  اس کے علاوہ شہید کی تنخواہ بمعہ تمام الائونس بیوہ کو اسکی زندگی اور بچوں کو بالغ ہونے تک ملتی رہے گی ،بچوں کے سکول ،کالج اور یونیورسٹی کے اخراجات حکومت برداشت کر یگی ہے  ۔  انہوں نے کہا کہ آئی جی اسلام آباد نے  ایک ایس پی سطح کے افسر کی ذمہ داری لگائی ہے کہ وہ  ہر بدھ کو پولیس میں بیٹھ کر پولیس شہدا سے رابطے کریں گے  اور ان کے مسائل کو حل کریں گے ۔

 وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ خان نے کہا کہ  جب وزارت  داخلہ کا قلبندان سنبھالا تو  مجھے معلوم ہوا کہ شہدا کے ایک ارب 22 کروڑ روپے کی ادائیگیاں التوا کا شکار تھیں ، شہدا کے اہلخانہ کو ادائیگیاں نہیں ہوسکیں ، یہ ایک بڑی رقم تھی لیکن وزیراعظم  کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے میری درخواست پر فنڈز جاری کئے  اور  شہدا فیملیز کو پوری رقم یکمشت ادا کی جاچکی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ  آئی ٹین فور میں جو دہشت گردی کا واقعہ ہوا ہے اس میں شہید ہونے والے عدیل حسین شاہ سمیت تمام زخمیوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں  کیونکہ ان کی وجہ سے پورا سلام آباد دہشت گردی کی ایک بڑی کارروائی سے محفوظ رہا ہے ۔

 رانا ثنا اللہ خان نے کہا کہ وفاقی پولیس پہلے سے بہت بہتر طور پر اپنی ذمہ داریاں نبھا رہی ہے ،اسلام آباد پولیس کے دیرینہ مطالبات جن میں تنخوائیں پنجاب پولیس کے مساوی کی جائے شامل ہے پورے کر دیئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جس طرح حکومت نے پولیس کا خیال رکھا ہے اس سے ہماری پولیس پہلے سے زیادہ بہتر انداز میں خدمات سرانجام دے رہی ہے ۔

 وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ خان نے کہا کہ  پارلیمنٹ پر حملے کا معاملہ میڈیا پر پھیلایا گیا جس کا مقصد  خوف و ہراس پیدا کرنا ہے  ،وہ ملزمان  بھی گرفتار ہوچکے ہیں ان سے انوسٹی گیشن چل رہی ہے  ۔ انہوں نے کہا کہ سی ٹی ڈی کے 2 افسران ایک اندوہناک واقعہ میں شہید ہوئے ہیں ،ان میں سے ایک افسر نوید سیال کو جانتا ہوں جنہوں نے اپنی جان پر کھیل کر دہشت گردی کے بڑے کیسز نمٹائے ہیں  ، ہمارے تمام افسران اور جوان اسی لگن اور کمٹمنٹ  کے ساتھ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر دہشت گردی کے خلاف جنگ  لڑرہے ہیں ۔

 وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ خان نے کہا کہ قوم کو تسلی ہونی چاہیے ، قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کا فیصلہ ہوا ہے ، جو بھی دہشت گردی میں ملوث ہے وہ دہشت گرد ہے اس میں اچھے یا برے کی تمیز نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ محمد شہباز شریف کی قیادت  میں ہم نے پنجاب  میں سی ٹی ڈی بنائی جس کی کارکردگی مثالی ہے ، ہم نے سی ٹی ڈی کا ایک ایسا ڈھانچہ تیا ر کیا  جس میں ہر طرح کی سہولیات فراہم کی گئیں ، پنجاب میں سی ٹی ڈی نے اچھا کا م  کیا، یکم جنوری تا 31 دسمبر 2022 تک  دہشت گردی کے ہونے والے واقعات میں 66 فیصد کے پی کے ، 31 فیصد بلوچستان ،سندھ میں 2 فیصد اور پنجاب میں ایک فیصد ہے ۔  انہوں نے کہا  کہ  یہ بھی فیصلہ ہوا ہے کہ تمام صوبوں کی سی ٹی ڈیز کے کردار کو موثر بنایا جائے، بلوچستان اور کے پی کے کی سی ٹی ڈیز کو تربیت بھی فراہم کی جائے ،یہ بھی فیصلہ ہوا ہے کہ  نیشنل سی ٹی ڈی کا ادارہ قائم کر کے تمام صوبائی سی ٹی ڈیز کو اس کے ساتھ منسلک کیا جائے ۔