اسلام آباد،2فروری(اے پی پی):فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے پاکستان کا سفر اور پاکستان سے سفر کرنے والے مسافروں کیلئے کرنسی ڈیکلیریشن کے عمل کو آسان بنانے کے ضمن میں پاس ٹریک ایپلی کیشن کا آغاز کر دیا ہے۔
جمعرات کو یہاں ایف بی آر کے ممبر کسٹم مکرم جاہ انصاری، ممبر تعلقات عامہ سید غلام مصطفیٰ کاظمی، ڈائریکٹر جنرل اصلاحات و آٹومیشن شکیل شاہ، ڈائریکٹر جنرل نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر سٹیٹ بینک ارشد محمود بھٹی نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گذشتہ سال نومبر میں سٹیٹ بینک نے پاکستان سے باہر جانے والے مسافروں کیلئے کرنسی کے حوالہ سے حد پر نظرثانی کی تھی جس کے نتیجہ میں 18 سال سے زائد عمر کے افراد کیلئے فی وزٹ پانچ ہزار ڈالر اور سالانہ 30 ہزار ڈالر کی حد مقرر کی گئی تھی۔ اسی طرح 18 سال سے کم عمر افراد کیلئے فی وزٹ یہ حد 2500 ڈالر اور سالانہ 15 ہزار ڈالر کی مقرر کی گئی۔ اسی طرح افغانستان کیلئے فی وزٹ ایک ہزار ڈالر اور سالانہ 6 ہزار ڈالر مقرر کی گئی۔ اسی طرح پاکستان آنے والے مسافروں کیلئے ضروری تھا کہ 10 ہزار ڈالر کرنسی کی صورت میں وہ کرنسی ڈیکلیریشن جمع کراتے۔
ممبر کسٹم نے بتایا کہ سٹیٹ بینک نے غیر ملکی کرنسی رکھنے والے افراد کیلئے کسٹم کے پاس ڈیکلیریشن کو بھی لازمی قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی مسافروں کی سہولت کیلئے پاکستان کسٹم نے نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے تعاون سے ویب بیسڈ موبائل ایپلی کیشن کا آغاز کر دیا ہے جس سے وہ کرنسی ڈیکلیریشن باآسانی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاس ٹریک ایپلی کیشن مسافروں کی سہولت کیلئے بنائی گئی ہے، اس کے ذریعے پاکستان آنے والے اور پاکستان سے جانے والے مسافر آسانی اور سہولت کے ساتھ کرنسی ڈیکلیریشن کر سکتے ہیں۔ اس ایپلی کیشن کی ٹیسٹنگ کا عمل مکمل ہو چکا ہے، اس میں کئی نئے فیچرز شامل کئے گئے ہیں جس سے مسافر آسانی کے ساتھ کرنسی ڈیکلیریشن فائل کر سکتے ہیں، یہ ایپلی کیشن ایپ سٹور اور پلے سٹور پر دستیاب ہے جبکہ اس کا ویب ورژن بھی موجود ہے۔ پوری دنیا سے اس تک رسائی ہوتی ہے، ایپلی کیشن میں صارفین کو مرحلہ وار رہنمائی فراہم کی جاتی ہے۔ کوئی بھی شخص اپنے موبائل نمبر سے اس کے ذریعے رجسٹریشن کرا سکتا ہے۔ ڈیکلیریشن فارم اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں موجود ہے۔ مسافر ایک مرتبہ پرسنل ڈیٹا فراہم کرنے کے بعد اس کے ساتھ رجسٹرڈ ہو جاتا ہے اور اسی سے اس کی سفری ہسٹری بھی مرتب ہوتی ہے۔ اس نظام کے ساتھ شکایات اور فیڈ بیک کا طریقہ کار بھی موجود ہے۔
ممبر کسٹم نے کہا کہ پاس ٹریک ایف بی آر کی جانب سے انسانی مداخلت کے بغیر آٹومیشن کی منزل کی جانب ایک اور قدم ہے جس کے اچھے نتائج سامنے آئیں گے۔ ایک سوال پر ممبر کسٹم نے کہا کہ سمگلنگ کے خاتمہ کیلئے ان کا محکمہ اپنا کردار ادا کر رہا ہے تاہم انسداد سمگلنگ کے حوالہ سے دیگر بڑے ادارے موجود ہیں، ہم اپنے حصے کا کردار ادا کر رہے ہیں، ہماری کوشش ہے کہ انفورسمنٹ کے دائرہ کار میں توسیع آئے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے حوالہ سے بھی یہ نظام اہمیت کا حامل ہے، اس سے کرنسی سمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خاتمہ کیلئے پاکستان کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے۔
ایک سوال پر سٹیٹ بینک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے کہا کہ ملک سے ملینز آف ڈالر کی سمگلنگ کا الزام درست نہیں ہے، کرنسی سمگلنگ میں ڈالر کا عنصر بہت کم ہے، ڈالر کی قدر میں اتار چڑھائو کی بڑی وجہ اس کی ذخیرہ اندوزی ہے، اوپن اور بلیک مارکیٹ کے درمیان فرق کے خاتمہ کی وجہ سے ڈالر کی ذخیرہ اندوزی بھی ختم ہو گی اور کرنسی کی قدر میں استحکام آئے گا۔ ممبر کسٹم نے ایک اور سوال پر کہا کہ غیر ملکی کرنسی میں سعودی ریال اور دیگر کرنسیوں کا حصہ زیادہ ہے۔











