ملتان،8فروری(اے پی پی):نگران صوبائی وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر جاوید اکرم نے کہا ہے کہ پنجاب میں صحت کارڈ بند نہیں کیا گیا بلکہ اس میں مزید بہتری لائیں گے، ملتان جلد ہی جدید سہولیات سے آراستہ جنوبی پنجاب کا طبی ہب ہو گا ۔
ان خیالات انہوں نے نشتر ہسپتال اور نشتر میڈیکل یونیورسٹی کے دورہ کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں کو جدید طبی آلات اور مشینری فراہم کررہے ہیں، کابینہ کے پہلے اجلاس میں صحت کے شعبہ کے لیے اڑھائی ارب روپے کی منظوری دی گئی جس میں نشتر ملتان کے لیے 350 ملین روپے منظور کئے گئے ۔انہوں نے کہا کہ تمام ہسپتالوں میں فارمیسی قائم کریں گے جہاں ضرورت کی تمام ادویات دستیاب ہوں گی۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نشتر ہسپتال پارکنگ مسئلہ کے حل کے لیے پارکنگ پلازہ تعمیر کریں گے۔انہوں نے کہا کہ عطائی ڈاکٹروں کی حوصلہ شکنی کے لیے کارروائی کررہے ہیں ڈاکٹروں تک آسان رسائی نہ ہونےکی وجہ سے مریض عطائیڈداکٹروں کارخ کرتے ہیں ۔صوبہ میں عطائی ڈاکٹر وں کی تعداد 40 ہزار سے بڑھ کر 90 ہزار ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف کے رویوں میں بہتری لائیں گے تاکہ مریض علاج کے لیے عطائی ڈاکٹروں سے رجوع نہ کریں ۔
انہوں نے کہا کہ گردے فیل ہونے اور ہیپاٹائٹس کے پھیلاو کی ایک وجہ عطائی ڈاکٹر ہیں انسانی جان کو بچانا عبادت ہے بطور وزیر بھی ایک جان کو بچانا میرے لیے اعزاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ نشتر ہسپتال ملتان میں منشیات کے عادی نوجوانوں کا علاج شروع کر دیا گیا ہے علاج کے ساتھ ساتھ معاشرے کو منشیات سے پاک کرنے میں عوام سمیت تمام شعبوں کو مل کر کام کرنا ہو گا۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شفاف ، آزادانہ اور محفوظ الیکشن ہماری ترجیح ہے، کابینہ کے آئندہ اجلاس میں کسانوں کے مسائل حل کریں گے،انہوں نے کہا کہ زرعی ملک میں اراضی نہیں کسان ہمارا سرمایہ ہیں، زرعی اصلاحات میں عمدہ کھاد ،بیج ،زرعی ادویات اور زرعی اجناس کی مارکیٹنگ بارے فیصلے ہوں گے فی ایکڑ زرعی پیداوار میں اضافہ کے لیے اہم فیصلہ سازی ہو گی زرعی ریسرچ کے شعبہ میں جدت لائیں گے۔











