اسلام آباد۔27اپریل (اے پی پی): صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان ایران کے ساتھ اپنے برادرانہ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے کیونکہ دونوں برادر ممالک تاریخی روابط اور ثقافتی وابستگی کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی اہمیت کے معاملات پر یکساں خیالات رکھتے ہیں۔ انہوں نے دونوں ممالک کے باہمی فائدے کے لیے اقتصادی تعاون اور تجارتی حجم کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ صدر مملکت نے بھارت کے غیر قانونی طور پر زیر قبضہ جموں و کشمیر اور بھارت کے دیگر حصوں میں مسلمانوں کے خلاف بھارتی سکیورٹی فورسز کے مظالم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں کو الگ تھلگ اور ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، مسلم دنیا کو مسلمانوں کے خلاف بھارتی مظالم کا نوٹس لینے کی ضرورت ہے۔ صدر مملکت نے مسئلہ کشمیر پر ایرانی حکومت کی حمایت اور موقف پر شکریہ ادا کیا۔ صدر ڈاکٹر عارف علوی نے ایران اور سعودی عرب کی جانب سے سفارتی تعلقات کو معمول پر لانے کےلئے کئے گئے تاریخی اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات معمول پر آنے سے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام آئے گا۔ ملاقات میں دہشت گردی کی لعنت کے خاتمے کے لیے انسداد دہشت گردی تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ ایرانی سفیر سید محمد علی حسینی نے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، ثقافتی اور سیاسی تعاون کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک میں اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں اطراف نے چھ بارڈر مارکیٹوں کی تعمیر پر اتفاق کیا ہے جس سے دو طرفہ تجارت کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے صدر مملکت کو بجلی کی ترسیل کے جاری منصوبوں سے آگاہ کیا جس سے بلوچستان کے عوام کو فائدہ پہنچے گا۔ صدر مملکت نے دونوں برادر ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کے لیے سبکدوش ہونے والے سفیر کے تعاون کو سراہا۔











