میٹھے مشروبات صحت کیلئے نقصان دہ ، ان پر ٹیکس بڑھا کراستعمال میں کمی لائی جائے؛ ماہرین صحت

34

پشاور،05  اپریل(اے پی پی ):میٹھے مشروبات دل اور دیگر بہت سی بیماریوں کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہیں، اگر ان کے استعمال میں کمی لانے کے لیے موثر پالیسی اقدامات نہ کیے گئے تو ان بیماریوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہو جائے گا، ٹیکس  میں اضافہ ایک ایسا ثابت شدہ طریقہ ہے جس سے بہت سے ممالک نے ان مضر صحت اشیاء کے استعمال میں کمی لائی جس کے نتیجے میں وہاں بیماریوں میں بھی کمی آئی۔

 یہ بات صحت کے ماہرین اور مقررین نے   پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن (پناہ)کے زیر اہتمام ایک مقامی ہوٹل میں  میٹھے مشروبات کے صحت اور معیشت  پر ہونے والے نقصانات اور اور ان سے بچاؤ کے طریقوں پر  پر ایک  میڈیا سیشن میں کہیں۔  خیبر پختونخواہ کے سابق گورنر اقبال ظفر جھگڑا  مہمان خصوصی تھے۔

اقبال ظفر جھگڑا نے کہا کہ پناہ  ایک صحت مند پاکستان کے لیے انتھک محنت کر رہا ہے، پالیسی ساز اداروں سے لیکر عام آدمی میں آگائی کے لیے پناہ کا کردار ناقابل فراموش ہے۔ میں  پناہ کے اس انسانیت کی بھلائی کے مشن میں ہمیشہ ان کے ساتھ ہوں۔

  مہمانوں میں  خیبر پختونخواہ کے وزیر اطلاعات بیرسٹر سید جمال شاہ کاکا خیل، خیبرپختونخوا فوڈ اتھارٹی سے ڈاکٹر عبدالستار، پروفیسر ڈاکٹر عمر ظفر جھگڑا، ڈسٹرک ہیلتھ آفیسر پشاور ڈاکٹر احسان اللہ خان، آئی کنسلٹنٹ ڈاکٹر ہدا، گلوبل ہیلتھ ایڈووکیسی انکوبیٹر کے کنسلٹنٹ منور،حسین شامل تھے۔الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے نمائندگان   کے علاوہ  سول سوسائٹی اور  ہیلتھ پروفیشنلزنے شرکت کی۔ تقریب کی میزبانی پناہ کے سیکریٹری جنرل ثناہ اللہ گھمن نے کی۔ انہوں نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور تقریب کی غرض،غایت بیان کی۔

بیرسٹر سیدجمال شاہ کاکاخیل  نے کہا کہ پاکستان میں غیر متعدی بیماریوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔  ان کی بڑی وجوہات میں سے ایک غیر صحت بخش خوراک  جیسے  میٹھے مشروبات  کا استعمال بھی ہے، حکومت کو اس جانب توجہ دینا چاہیے کہ کس طرح ہم ان کے استعمال میں کمی لا سکتے ہیں۔

ڈاکٹر احسان اللہ خان  نے کہا کہ ہمیں ہر وہ ممکنہ قدم اٹھانا ہو گا جس سے بیماریوں کی شدت میں کمی لائی جا سکے۔  پروفیسر ڈاکٹر عمر ظفر جھگڑا نے کہا کہ  شوگری ڈرنکس یسے مشروبات ہیں جن میں اضافی شکر ہوتی ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگناہزیشن کے مطابق اضافی شکر کی کھپت کل  کیلوریز کے 10 فیصد سے کم ہونا چاہیے، ان  میٹھے مشروبات کا زیادہ استعمال خاص طور پر بچوں اوبڑوں کی صحت کو بہت بڑے خطرات لاحق کر دیتا ہے۔ موٹاپے، زیابیطس، دل اور پہت سی دوسری بیماریوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ یہی میٹھے مشروبات ہیں اور انہی میٹھے مشرو بات کے زیادہ استعمال کی وجہ سے آج پاکستان دنیا میں زیابیطس میں تیسرے نمبر پر ہے اور جس تیزی سے اس میں اضافہ ہو رہا ہے پاکستان دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔

خیبر پختونخواہ فوڈ اتھارٹی کے ٹیکنیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر عبدالستار نے کہا کہ ہم پہلے ہی  خیبر پختونخوا کے سکولوں میں میٹھے مشروبات کے بارے میں قانون سازی کر چکے ہیں لیکن ان مضر صحت مشروبات کو عوام کی پہنچ سے دور کھنے کے لیے ٹیکس پر اضافہ ایک بہترین آپشن ہے۔ڈاکٹر ہدا نے کہا کہ میٹھے مشروبات ذیابیطس  کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہیں اور ذیابیطس سے  آنکھوں کی بیماریوں میں بہت زیادہ اضافہ ہو جاتا ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوے پناہ کے سیکریٹری جنرل ثناہ اللہ گھمن نے کہا کہ پاکستان نیشنل ہارٹ ایسو سی ایشن پچھلے 40 سال سے لوگوں کو دل اور اس سے متعلقہ بیماریوں سے بچانے کی آگائی دے رہی ہے اور وہ وجوہات جو بیماریاں پیدا کرنے کی وجہ بن رہی ہیں پناہ حکومت کے ساتھ مل کر ان کی روک تھام کے لیے قوانین بنوا رہی ہے تا کہ اپنے ہم وطنوں کو اور خاص طور پر بچوں کو صحت مند زندگی دی جا سکے۔

زیابیطس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے سیکریٹری جنرل پروفیسر عبدلباسط  نے کہا کہ ان مشروبات کے زیادہ استعمال کی وجہ سے نہ صرف ان بیماریوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہ ہے بلکہ حکومت کے ہیلتھ برڈن میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، صرف زیا بیطس سے بچنے کے لیے پاکستان کے سالانہ اخراجات کا تخمینہ 2640 ملین امریکی ڈالرسے زیادہ ہے۔

یونیورسٹی آف کراچی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر سید محمد غفران سعید نے کہا کہ جس تیزی سے زیابیطس، موٹاپے، دل اور متعلقہ بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے اس کی ایک بڑی وجہ الٹرا پراسیسڈ فوڈ ز اور میٹھے مشروبات کا استعمال ہے۔ اگر ہم اس خطرناک صورتحال سے باہر آ نا چاھتے ہیں تو حکومت کو ایسی پالیسیز بنانا پڑیں گی جس سے ان مضر صحت اشیاء کے استعمال میں کمی آے اور خصوصی طور پر ان چیزوں کو بچوں کی پہنچ سے دور کیا جائے۔