اسلام آباد،4اپریل (اے پی پی):وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ خان نے کہا ہے کہ کسی کے خلاف ریفرنس دائر کرنا ہر شہری کا حق ہے ، یہ غیر قانونی یا عدالت پر حملے کی بات نہیں ہے ۔
منگل کو سپریم کورٹ کے باہر فیصلے سے قبل میڈیا سے گفتگو کر تے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب حالات پیدا ہونگے تو آئین میں ایمرجنسی کا وہ آرٹیکل موجود ہے،دو صوبوں میں پہلے الیکشن سے ایک نیا بحران اور انارکی جنم لے گی ۔ انہوں نے کہا کہ چار ججز نے اس سوموٹو نوٹس کو مسترد کیا ہے، الیکشن کیس کا فیصلہ فل کورٹ کے ذریعےکیا جائے، صرف انصاف ہونا ہی نہیں چاہیے بلکہ انصاف ہوتا نظر بھی آنا چاہیے، ہر طرف سے فل بینچ کا مطالبہ ہے تو اسے مان لینے میں کیا حرج ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ خان نے کہا کہ حالات اس طرف گئے تو حکومت کے پاس ایمرجنسی کا آپشن موجود ہوتا ہے، آئین میں ایمرجنسی کا آرٹیکل موجود ہے، وہ آرٹیکل کہیں گیا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اور معاشی بحران کے ساتھ آج آئینی بحران بھی عمران نیازی کی فتنہ سیاست کی وجہ سے ہے، الیکشن آئین میں دی گئی اسکیم کے تحت نگران حکومت کے سیٹ اپ کے تحت ایک ہی روز ہونے چاہئیں، ہمارا موقف پوری قوم کی آواز ہے ،پوری قوم کا مطالبہ ہے کہ فل کورٹ بنے ۔
وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ خان نے کہا کہ ملک بھر میں الیکشن ایک ہی وقت میں ہونے چاہیے ، دو صوبوں میں پہلے الیکشن سے ایک نیا بحران اور انارکی جنم لے گی ۔ انہوں نے کہا کہ عدالت عظمی کے فیصلوں میں انصاف ہوتا نظر آنا چاہیے، سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ کے خلاف تو عدالت عظمی کے اندر سے آوازیں اٹھ رہی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پوری قوم اسی پر متفق ہے کہ الیکشن کے حوالے سے کیس میں فل کورٹ بنچ تشکیل دیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک جواز بنتا ہے جس کی بنیاد پر بلاول بھٹو نے بات کی ہے کہ آخر ہر فیصلے میں یہ ہی تین ججز کیوں ہیں ،ان ججز کا تعلق ایک صوبے اور شہر سے ہے ، فل بنچ کا مطالبہ سیاستدان ، بارکونسلز ، سول سوسائٹی کی طرف سے ہے ،اگر یہ مطالبہ مان لیا جائے تو بحرانی کیفیت بہتر ہوجاتی ہے
اس موقع پر وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ بھی ان کے ہمراہ موجود تھے ۔











