گھوٹکی، 01 اپریل (اے پی پی ): کچے میں ڈاکوؤں کے خلاف پولیس آپریشن تیز کرنے کی تیاریاں شروع، سندھ پنجاب کے سرحدی کچے کے علاقے میں بڑھتی ہوئی اغوا برائے تاوان کی وارداتوں کو روکنے اور موٹروے ایم فائیو کی حفاظت کے لئے کچے کے علاقے رونتی، آندل سندرانی کچے میں 58 پولیس پکٹیں قائم کرنے کے لئے ہیوی مشینری و دیگر سامان بچاؤ بند پر پہنچا دیا گیا ہے۔
گھوٹکی پولیس کی جانب سے کچے میں 30 کلومیٹر کے اندر پولیس پکٹیں قائم کی جائیں گی جس کے فنڈز کے لئے ایس ایس پی گھوٹکی تنویر احمد تنیو کی جانب سے ڈپٹی کمشنر گھوٹکی کو ایک خط لکھا گیا ہے جس میں پولیس پکٹس بنانے کے لئے سی ایس آر فنڈز سے ایک کروڑ روپے کی منظوری کی درخواست کی گئی ہے ۔
ایس ایس پی گھوٹکی تنویر احمد تنیو کے مطابق کچے میں موجود ڈاکوؤں کے خاتمے کے لئے کچے میں 58 پولیس پکٹیں قائم کی جائیں گی جہاں 500 پولیس اہلکار ڈیوٹی سرانجام دیں گے، پولیس پکٹیں قائم کرنے کا مقصد ڈاکوؤں اور اغواء کاروں کا گھیرا تنگ کرنا ہے تاکہ ان کے آمدورف پر کڑی نظر رکھی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ جرائم پیشہ عناصر کو کسی صورت بخشا نہیں جائیگا اور ڈاکوؤں کے خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا، کچے میں قائم کی جانے والی پولیس پکٹیں شہید پولیس اہلکاروں کے ناموں سے بنائی جائے گی جنکا افتتاح بھی شہید اہلکاروں کے ورثاء سے کرایا جائے گا۔











