اسلام آباد،10مئی(اے پی پی):دستور کی گولڈن جوبلی کے سلسلے میں بین الاقوامی پارلیمانی کنونشن میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے مندوبین نے کہا ہے کہ اختیارات کا استعمال اور اداروں میں توازن منصفانہ ہونا چاہئے، عدلیہ کو چاہئے کہ اگر کچھ چیزیں مبہم ہوں تو پارلیمان کو قانون سازی کی درخواست کرے، آئین پر عمل کرکے ہی تمام مشکلات سے نمٹا جا سکتا ہے۔
بدھ کو پاکستان کے دستور کی گولڈن جوبلی کے سلسلے میں ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی زاہد اکرم درانی کی زیرصدارت بین الاقوامی پارلیمانی کنونشن کے بریک آئوٹ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے لبنان کے رکن پارلیمنٹ قاسم ہاشم نے کہا ہے کہ کسی بھی ملک کا آئین اس کی سیاسی زندگی کا عکاس ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اختیارات کا استعمال اور اداروں میں توازن منصفانہ ہونا چاہئے، ورنہ اس سے بہت سے مسائل جنم لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین میں اسرائیل کی بربریت جاری ہے، اسرائیل کی ظالمانہ کارروائیاں بند ہونی چاہئیں، عالمی امن تب ہی ممکن ہے جب تک فلسطین کو ان کی خواہش کے مطابق حق نہیں دیا جاتا۔
برطانوی پارلیمنٹ کی رکن یاسمین قریشی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک ادارے کو دوسرے ادارے پر اثرانداز نہیں ہونا چاہئے، عدلیہ کا کام آئین کی تشریح کرنا جبکہ پارلیمان کا کام قانون سازی کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اگر کوئی چیز پسند نہیں آتی تو اس کیلئے قانون سازی کرتی ہے۔بریک آئوٹ سیشن سے تاجکستان کی قانون ساز اسمبلی کے ڈپٹی چئیرمین نے پاکستان کے آئین کی گولڈن جوبلی پر مبارکباد پیش کی اور پاکستان کے استحکام اور خوشحالی کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ آئین کسی بھی ملک کیلئے ایک “لیونگ مکینزم” ہے، آئین پر عمل کر کے ہی تمام مشکلات سے نمٹا جا سکتا ہے، اس جدید دور میں آئین کو مسائل بھی درپیش ہیں، عالمی پارلیمانی فورمز پر مل کر ان چیلنجز سے نمٹنے کیلئے اقدامات اٹھانے چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اختیارات کی تقسیم منصفانہ اور اداروں میں توازن لازمی ہونی چاہئے۔
اس موقع پر ایران کی مجلس شوریٰ کے رکن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی حکومت اور پارلیمان کی طرف سے پاکستان کو آئین کی گولڈن جوبلی کے موقع پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے پاکستان کے پارلیمان کی ترقی کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایران پہلا ملک تھا جس نے پاکستان کو تسلیم کیا، پاکستان اور ایران کے پارلیمانوں میں قریبی روابط ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں نیو ورلڈ آرڈر کیلئے تیار اور اس میں اپنی جگہ قائم کرنے کیلئے تیاری کرنی چاہئے، ایران کو بہت سی پابندیوں کا سامنا ہے لیکن ہم پارلیمان میں ان پابندیوں کا مقابلہ کرنے کیلئے بیٹھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک نے ترقی پذیر ممالک بالخصوص مسلم ممالک پر دبائو ڈالنے کیلئے “انسانی حقوق” کے عنوان کو بہانہ بنا لیا ہے، اسلام وہ واحد مذہب ہے جس میں جانوروں کے حقوق بھی بیان کئے گئے ہیں، مسلم ممالک کو درپیش مسائل سے نمٹنے کیلئے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔











