ٹوبہ ٹیک سنگھ،24 مئی(اے پی پی ):قدیم زمانے سے بنگلہ دیش اور بھارت میں کاشت کیا جانے والا انمول پھل بیل پتھر پاکستان کے ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کے علاقہ پیرمحل میں بھی موجود ہے، قدرتی اجزا سے بھرپور اینٹی وائرل اوراینٹی فنگل کی خاصیت رکھنے والا بیل پتھر ،بیل گری کے نام سے مشہور ہے۔
بیل گری ایک ایسا غیر معمولی پھل ہے جس کےاستعمال سے کافی فوائد حاصل کئے جا سکتے ہیں،اردو میں اسے بیل پتھر بھی کہتے ہیں جب کہ انگریزی میں(Beal Fruit )اور ( Wood Apple) پنجابی میں بل ، سندھی میں کاٹھوری ، بنگلہ اور سنسکرت میں اسے بلوا کہتے ہیں.
بیل گری کی زیادہ کاشت بھارت میں کی جاتی لیکن بھارت کے علاوہ، بنگلہ دیش ، سری لنکا اور پاکستان میں بھی کہیں کہیں پایا جاتا ہے۔ بیل گری کا یہ درخت ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کے علاقہ 343 گ ب جڑاھاں کے زراعی کینو کے باغات میں منفرد نظر آتا ہے، ضلع بھر میں بیل گری کے ایک سے دو درخت موجود ہیں۔
بیل گری کا پھل موسم گرما میں پکنا شروع ہوتا ہے اور بیساکھ یعنی اپریل کے مہینے میں پک کر تیار ہوتا ہے، بیل پتھر کو توڑ کر اسکا گودا کا شیک یا گودا کھانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اسکا شیک انڈیا اور بنگلہ دیش میں زیادہ استعمال ہوتا ہے۔
ماہرین نے تحقیق سے ثابت کیا ہے کہ زمانہ قدیم میں اس کا خشک پاؤڈر استعمال کیا جانے کے علاوہ بیل گری سے حاصل اینٹی مائیکروبیل جو اینٹی وائرل ،اوراینٹی فنگل کی خاصیت رکھتا ہے جسم میں مختلف بیماریوں کے علاج میں مدد گار بنتا ہے اور متعدد وبائی امراض سے محفوظ رکھتا ہے۔
حکومت اگر کاشتکاروں کو اس پھل کے بارے میں تربیتی ٹریننگ دے تو اسکی کاشت سے نہ صرف کسان کو فائدہ ہوگا بلکہ ملک کو زرمبادلہ بھی حاصل ہوگا۔











