سینیٹر نصیب اللّہ بازئی کی زیرصدارت  سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ کا اجلاس

52

اسلام آباد۔4مئی  (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر نصیب اللّہ بازئی کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہائوس میں ہوا۔سیکریٹری بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی طرف سے کمیٹی کو بلوچستان میں پروگرام سےمستفید ہونے والوں کے کوٹہ ، اور بلوچستان میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے مستفید ہونے والے اضلاع کی تعداد کے بارے بریفنگ دی گئی۔انہوں نے بتایا کہ بی آئی ایس پی میں کوئی کوٹہ سسٹم نہیں ہوتا۔ہر صوبے میں مستحق آبادی کا تناسب نکالا جاتا ہے۔ڈور ٹو ڈور سروے کرکے مستحق خاندان کا سروے کیا جاتا ہے جس میں 65 مختلف نوعیت کے سوالات کئے جاتے ہیں اور پی ایم ٹی (پراکسی مین ٹیسٹ) اسکور کے ذریعے ایسے مستحق خاندان کی نشاندہی کی جاتی ہے۔0۔100 میں خاندان کو اسکور دیا جاتا ہے۔32 اور اس سے نیچے غربت کی لکھیر میں آتے ہیں۔32۔37 اسکور والے بھی غربت میں آتے ہیں لیکن اس کیلئے اتنے پیسے نہیں ہیں۔ ایک خاندان کیلئے  7000 سے بڑھا کر 8875 روپے کر دیئے گئے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت بی آئی ایس پی سے فائدہ اٹھانے والوں کی تعداد 9 ملین ہے۔پنجاب کی آبادی 51 فیصد ہے بینیفشری شئیر 47 فیصد ہے۔سندھ کی آبادی 26 فیصد، بینیفشری شئیر  26.6 فیصد ہے۔خیبرپختونخوا کی آبادی 13.3 فیصد جبکہ بینیفشری شئیر 18 فیصد ہے۔اسلام آباد کی آبادی 1 فیصد جبکہ بینیفشری شئیر  0.1 فیصد ہے۔گلگت بلتستان کا بینیفشری شئیر 1.1 فیصد ہے۔بلوچستان کی آبادی 5.4 فیصد جبکہ بینیفشری شئیر 5.1 فیصد ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کاتناسب 5.4 فیصد سے زیادہ ہونا چاہئے اور اس کیلئے اقدامات اٹھا رہے ہیں۔انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ بلوچستان میں مستحق خاندانوں کی رجسٹریشن کیلئے نادرا کے 125 ڈسک بنائے گئے ہیں تاکہ ان خاندانوں کی رجسٹریشن ہو جو بی آئی ایس پی کیلئے اندراج سے رہ گئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جولائی میں جرمنی کی مدد سے 500 موٹرسائیکلز بلوچستان کو دیئے جا رہے ہیں جس کیلئے لوگوں کو 18 ماہ کیلئے تعینات کیا جائے گاجو دوردراز علاقوں میں لوگوں کی رجسٹریشن کرانے جائیں گے  جہاں گاڑیاں نہیں جا سکتی۔اس کے علاوہ بلوچستان میں 20 ہینو ٹرک چلائے جا رہے ہیں جس میں 1 بندہ نادرا کا، 1 بی آئی ایس پی سے کیش کا اور 1 رجسٹریشن کا اہلکار ہوگا۔چئیرمین کمیٹی نے تجویز دی کہ 18 ماہ کیلئے 500 بائیکس کیلئے جن لوگوں کو تعینات کیا جائے وہ بلوچستان کے اضلاع سے ہی ہوں۔وزیر برائے تخفیف غربت شازیہ مری نے بتایا کہ بلوچستان میں بالخصوص اور دیگر ریموٹ علاقوں میں مسنگ نمبرز زیادہ ہیں۔اس کے علاوہ خواتین کو بااختیار بنانے کیلئے وزیرستان میں خواتین کے بینک اکاونٹس بنانے کیلئے بھی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔وفاقی حکومت کی جانب سے بی آئی ایس پی کو دی گئی 40 ارب روپے کی گرانٹ ،حالیہ سیلاب متاثرین کی بحالی اور امداد کیلئے گرانٹ  کی تقسیم بارے این ڈی ایم اےحکام نے کمیٹی کو بریفنگ دی۔وزیربرائے تخفیف غربت اور چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے وضاحت دیتے ہوئے بتایا کہ 40 بلین روپے نہیں 70 بلین روپے وزیراعظم کی طرف سے جاری کئے گئے تھے۔اس رقم کا تعلق سیلاب متاثرین سے کم اور غربت سے زیادہ ہے۔7 ملین روپےسیلاب زدہ خاندانوں میں فی خاندان 25۔25 ہزار روپے تقسیم کئے گئے ہیں۔ممبر این ڈی ایم اے نے پاکستان میں حالیہ سیلاب کے نقصانات اور ریلیف کیلئے اقدامات بارے کمیٹی کو بریفنگ دی۔انہوں نے بتایا کہ ملک بھر بشمول بلوچستان میں سیلاب سے متاثرہ لوگوں کو این ڈی ایم اے اور بیرون ملک امداد کے تحت کل 3 لاکھ 16 ہزار 578 ٹینٹس، 79 ہزار 790 ٹَرپولینز، تقریباً 20 لاکھ مچھر دانیاں، 3 لاکھ 58 ہزار 80 کمبل، 6 لاکھ سے زائد فوڈ پیکس اور 34 ہزار390 ہائیجین کٹس فراہم کئے گئے۔سینیٹر کیشو بائی کے سوال کے جواب میں انہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت بھی سندھ کے کچھ اضلاع میں پانی موجود ہے جس کی وجہ سے وہاں گندم کی کاشتکاری اور بوائی شدید متاثر ہوئی ہے۔چئیرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ اگلی میٹنگ میں چئیرمین این ڈی ایم اے کمیٹی میں آ کر ریلیف اسسٹنس کے حوالے سے خود کمیٹی کو تفصیلات سے آگاہ کریں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ قدرتی آفات میں شہید ہونے والوں کےلواحقین کو 10 لاکھ روپے پی ڈی ایم اےکے ذریعے دئے جاتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ حالیہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کے حوالے سے ملک بھر سے کل 1675 کی تفصیلات موصول ہوئیں جس میں سے 1011 کراس چیک پی ڈی ایم اے کو جاری کئے گئے جبکہ 664 کی تفصیلات مکمل نہیں ہیں۔