اسلام آباد۔4مئی (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہائوسنگ اینڈ ورکس نے مارکیٹ ویلیو سے کم مالیت کے لیز معاہدے کرنے والے افسران کے خلاف کارروائی کی سفارش کردی ۔کمیٹی کا اجلاس جمعرات کو سینیٹر حاجی ہدایت اللہ خان کی سربراہی میں ہوا ۔اجلاس کے آغاز میں سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس اور اس سے ملحقہ محکموں میں ڈیپوٹیشن پر تعینات افسران کی تعداد پر سوال اٹھایا اور چیئرمین کو آئندہ اجلاس میں تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ کمیٹی نے سٹیٹ آفس کے مستقل ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) کی جلد از جلد تقرری کی بھی سفارش کی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اسلام آباد میں کسی بھی فلیٹ یا مکان کی عدم ملکیت اور ان کے اثاثوں کے حوالے سے صرف 57 افسران نے حلف نامہ جمع کرایا۔ چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ اس عمل میں تیزی لائی جائے اور عدم تعمیل کرنے والے افسران کو حتمی نوٹس جاری کیا جائے۔اجلاس میں کراچی میں وزارت کی کمرشل پراپرٹیز لیز پر دینے کے معاملے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ کمیٹی ممبران نے وزارت کی کمرشل جائیدادوں کو مارکیٹ ویلیو سے کم اور معمولی نرخوں پر لیز پر دینے کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے سیکریٹری نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ لیز کی مدت کے دوران وزارت کچھ نہیں کر سکتی کیونکہ لیز ہولڈرز عدالتوں سے رجوع کرتے ہیں اور حکم امتناع لیتے ہیں۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ ان افسران کے خلاف کارروائی کی جائے جنہوں نے مارکیٹ ویلیو سے بہت کم لیز معاہدے کیے۔ وزارت نے بتایا کہ نئے لیز معاہدے مارکیٹ ویلیو کے مطابق اور پانچ سال کے لئے کیے جائیں گے، موجودہ لیز کی مدت ختم ہونے کے بعد ایک نئی لیز پالیسی نافذ کی جائے گی۔کمیٹی نے سیکٹر ایف 6/1 سے متعلق انکوائری رپورٹ پر بھی غور کیا جس میں خاص طور پر احاطے کے باہر اور سرکاری رہائشی املاک کے اندر غیر قانونی تعمیرات/ تجاوزات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزارت نے بتایا کہ سرکاری املاک اور فٹ پاتھوں سے تجاوزات کے خاتمے کے لئے جامع مہم شروع کی گئی ہے اور اس سلسلے میں پانچ ہزار نوٹسز جاری کیے گئے ہیں، تاہم شدید مزاحمت کا سامنا کرنے کے بعد اس عمل کو روک دیا گیا تھا۔ڈی جی ایف جی ای ایچ اے نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن پارک انکلیو منصوبے کی اراضی کے حصول اور ٹینڈرنگ کے عمل پر تفصیلی بریفنگ دی۔ کمیٹی ممبران نے ایف جی ای ایچ اے کی جانب سے بولی کے عمل پر سوالات اٹھائے اور چیئرمین کو ہدایت کی کہ بولی کے عمل اور فرموں کی پری کوالیفکیشن کے معیار کی مکمل تفصیلات فراہم کی جائیں۔ کمیٹی کو کوٹہ پالیسی اور معیار کے مطابق پلاٹوں کے الاٹیوں کی تفصیلات فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی گئی۔ محکمہ کو اراضی کے حصول اور اس کے قبضے میں اصل اراضی کی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔کمیٹی کو سیکٹر ایف 14 اور ایف 15 میں پراپرٹی کے لحاظ سے اراضی کے حصول اور بلٹ اپ ایریا کی مد میں کی جانے والی ادائیگیوں کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ بلٹ اپ ایریا کا تعین کرنے کے لیے ایک فرم کی خدمات حاصل کی گئیں اور سروے اور گوگل کے نشانات کے مطابق ادائیگیاں کی گئیں، بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ کی ہدایات کی روشنی کے مطابق نظر ثانی شدہ معاہدہ اور نرخ عدالت میں پیش کیے گئے ۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے بِلٹ اپ ایریا کے تعین کے لیے کٹ آف تاریخ میں بھی تبدیلی کی جس کی وجہ سے اضافی بلٹ اپ ایریا پر غور کیا گیا۔آخر میں کمیٹی نے ایف جی ای ایچ اے کے چیف انجینئر کرنل (ر) امتیاز الحق خٹک کے معاملے میں بھرتی کے طریقہ کار پر تبادلہ خیال کیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ناقص کارکردگی کی وجہ سے متعلقہ افسر کو اس کی ذمہ داریوں سے فارغ کردیا گیا اور نئے چیف انجینئر کو تین سال کے لئے کنٹریکٹ پر تعینات کیا گیا۔ کمیٹی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ وزارت کو کسی بھی مناسب طریقہ کار پر عمل کیے بغیر کسی افسر کو نہیں ہٹانا چاہیے کیونکہ خراب کارکردگی پر افسر کو کوئی شوکاز وجہ وضاحت جاری نہیں کی گئی۔ مزید برآں، انہیں پہلے دو سالوں کے لئے اچھی کارکردگی کا سرٹیفکیٹ دیا گیا تھا۔سینیٹر بہرام خان تنگی نے کہا کہ متعلقہ افسر کو ہٹانے سے قبل اپنی وضاحت پیش کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے تھا۔ چیئرمین نے فیصلہ کیا کہ کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں اس معاملے پر مزید تبادلہ خیال کیا جائے گا۔کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹرز سیف اللہ ابڑو، فدا محمد، خالدہ عتیب، ڈاکٹر افنان اللہ خان، مولانا عبدالغفور حیدری، فلک ناز، بہرام خان تنگی، محمد قاسم، سیکرٹری وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس، ڈی جی ایف جی ای ایچ اے اور متعلقہ وزارت کے حکام نے شرکت کی۔











