عمران خان پھرسے وہیل چئیر پر بیٹھ گئے ہیں انہیں قومی خصوصی فرد کا درجہ ملنا چاہئے ،وفاقی وزیر تعلیم

75

 

لاہور۔6مئی  (اے پی پی):وفاقی وزیر تعلیم رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ عمران خان قومی خصوصی فرد کا درجہ حاصل کرچکے ہیں حکومت کی طرف سے انہیں الیکٹرک وہیل چئیر دی جانی چاہیے،دوسروں کو بزدل کہنے والا خود کالی بالٹی میں منہ چھپا کر عدالتوں میں پیش ہوتا ہے ،ملک اس وقت محفوظ ہاتھوں میں ہے ،یونیورسٹیاں تعلیمی معیار میں بہتری لائیں انکی توجہ صرف فنڈز کے حصول پر مرکوز نہیں ہونی چاہئے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پنجاب یونیورسٹی میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کی طرف سے پرائم منسٹر الیکٹرک وہیل چئیر سکیم کے تحت منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود،ایچ ای سی کی ڈائریکٹر عائشہ اکرام اور دیگر موجود تھے۔رانا تنویر  نے کہا کہ خصوصی طالب علموں میں الیکٹرک وہیل چئیر کی تقسیم سلسلہ 2018میں شروع ہوا تھا اور اب تک ایچ ای سی کی طرف سے 600سے زائد خصوصی طالب علموں میں الیکٹرک وہیل چئیر تقسیم کی جاچکی ہیں۔انہوں نے کہا کہ خصوصی افراد معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں انہیں آگے بڑھنے کیلئے مواقع فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور موجودہ حکومت اس ذمہ داری کو نبھانے کی بھرپور کوشش کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ میں تعلیمی اداروں سمیت دیگر محکموں سے بھی کہوں گا کہ وہ اپنی بلڈنگز میں خصوصی افراد کے داخلے کیلئے ریمپس بنائیں تاکہ ان افراد کو وہاں پر داخلے میں آسانی ہو۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت جب بھی موقع ملا ہے انہوں نے نوجوانوں کیلئے پروگرامز شروع کیے  تاکہ انہیں آگے بڑھنے کے مواقع مل سکیں ۔انہوں نے کہا کہ ان پرگرامز میں لیپ ٹاپ سکیم کے علاوہ باصلاحیت نوجوانوں کو اعلیٰ حصول کیلئے سکالر شپ دیئے گئے ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے سابقہ دور حکومت میں ملک میں لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ عروج پر تھا اس وقت کے وزیر اعظم محمد نواز شریف اور محمد شہباز شریف نے جنگی بنیادوں پر لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ حل کیا اور اس کے ساتھ ملتان لاہور کے علاوہ جڑواں شہروں میں میٹرو بس  سروس شروع کی جس کا براہ راست فائدہ عوام کو ہوا ۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں ووکیشنل تعلیم حاصل کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ہنر مند افراد کی اس وقت دنیا بھر میں مانگ ہے ۔رانا تنویر حسین نے کہا کہ یونیورسٹیاں اپنے تعلیمی معیار میں بہتری لائیں ان کی توجہ صرف فنڈز کے حصول پر مرکوز نہیں ہونی چاہئے  اس کے علاوہ یونیورسٹیوں کی قومی سطح پر رینگنگ کا سلسہ دوبارہ شروع ہونا چاہئے اور یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ یونیورسٹیوں کی قومی سطح پر رینگنگ کا سلسلہ کیوں بند کردیا گیا۔اس موقع پر سوالوں کے جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیب میں ترامیم پاکستان تحریک انصاف اور تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے سے ممکن ہوا اور یہ کی یہ خوہش تھی کہ نیب میگا کرپشن سکینڈلز کو زیادہ فوکس کرے اور انہیں پایہ تکمیل تک پہنچائے ۔