اسلام آباد، 08 مئی ( اےپی پی): قومی اسمبلی آف پاکستان کی میزبانی میں 10 اور 11 مئی 2023 کو پاکستان کے آئین کی گولڈن جوبلی کی مناسبت سے بین الاقوامی آئینی کنونشن منعقد ہو گا۔ کنوینشن میں 17 سے زائد ممالک کے اسپیکرز، ڈپٹی اسپیکرز، نامور سیاسی رہنما، ماہر قانون اور سکالرز،سول سوسائٹی، سماجی و سیاسی خواتین کارکنان، نوجوان اور میڈیا کے نمائندے اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شریک کریں گے۔
سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی خصوصی دعوت پر سعودی عرب کی مجلس شوریٰ کے چیئرمین کی سربراہی میں سعودی پارلیمانی وفد شرکت کرے گا جبکہ سری لنکا، آذربائیجان، بیلجیئم، جمہوریہ کرغیزستان اور تاجکستان جیسے نامور ممالک کے پارلیمانی وفود متعلقہ ڈپٹی اسپیکرز/چیئرمینوں کی سربراہی میں شرکت کریں۔مزید برآں، متحدہ جمہوریہ تنزانیہ، کینیا، عمان اور ایران کی نمائندگی ان کی متعلقہ کمیٹیوں کے چیئرپرسنز کریں گے،علاوہ ازیں امریکہ اور برطانیہ میں مقیم پاکستانی نژاد پارلیمنٹیرینز بھی کنوینشن میں شرکت کریں گے۔کنوینشن ملکی سیاسی و پارلیمانی رہنما، سینیٹرز، اراکین پارلیمنٹ، وفاقی وزراء، وزرائے اعلیٰ اور کھنا مشق سیاستدان شرکت کریں گے۔
یہ تقریب اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین جو شہید ذوالفقار علی بھٹو کی دور اندیش قیادت میں 10 اپریل 1973 کو نافذ ہوا، کی گولڈن جوبلی کے سلسلے میں سپیکر راجہ پرویز اشرف کی سربراہی میں قومی اسمبلی کے زیر انتظام گزشتہ ایک ماہ سے جاری رہنے والی تقریبات کے اختتامی تقریب ہے۔آئین پاکستان کی دستاویز جو پاکستان کی یکجہتی مستقل مزاجی اور استقامت کا مظاہرہ ہے۔
اس اہم کنوینشن کے پہلے روز 10 مئی 2023 کو افتتاحی سیشن جس میں وزیر اعظم پاکستان، اسپیکر قومی اسمبلی، مشاورتی کمیٹی کے کنوینر، غیر ملکی اسپیکرز اور پارلیمانی وفود شرکت کریں گے کے علاؤہ اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی سربراہی میں پلینری سیشن ہو گا جس میں ختیارات کی علیحدگی، ایگزیکٹو، قانون سازی اور عدالتی افعال میں توازن” کے موضوع پر سیر حاصل بحث ہو گی۔بعد ازاں اسی دن تین بریک آوٹ سیشن منعقد ہونگے۔بریک آؤٹ سیشن ون کی صدارت ممبر قومی اسمبلی محترمہ نفیسہ شاہ کریں گی اس سیشن میں مندوبین وفاقیت، اختیارات کی منتقلی، چیلیجزز اور مواقع کے موضوع پر اظہار خیال گے۔سیشن II جس کی صدارت وزیر اعظم کے مشیر برائے امور کشمیر اور گلگت بلتستان قمر زمان کائرہ کریں گے میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانے اور آئین اور نمائندگی سے متعلق مسائل پر بات کی جائے گی۔دریں اثناء محترمہ رومینہ خورشید عالم، کنوینر SDGs ٹاسک فورس/SAPM، ” کی صدارت میں بریک آوٹ سیشن منعقد ہو جس میں عالمی ذمہ داری اور موسمیاتی انصاف کے لیے کثیر الجہتی فریم ورک اور 2022 میں پاکستان میں آنے والے سیلاب پر ایک کیس اسٹڈی کے موضوعات کو زیر بحث لایا جائے گا۔ پہلے دن کے آخری اجلاس کی صدارت وزیر اطلاعات و نشریات محترمہ مریم اورنگزیب کریں گی جس میں “ایگزیکٹیو، قانون سازی اور عدالتی افعال میں توازن، اختیارات کی علیحدگی کو یقینی بنانے” کے موضوعات پر مندوبین اپنی آراء دین گے۔
دوسرے دن، کنونشن کا آغاز پہلے دن کی کارروائی کے خلاصے سے ہوگا۔ بعد ازاں محسن شاہ نواز رانجھا ممبر قومی اسمبلی کی زیر صدارت “بحرانوں کے دور میں آئین، نیویگیٹنگ چیلنجز” کے موضوع پر پلینری اجلاس ہوگا۔ اس اجلاس میں اس بات کیا جائزہ لیا جائے گا کہ آئین کس طرح بحرانوں جیسے کہ وبائی امراض، قدرتی آفات اور سیاسی بدامنی سے پیدا ہونے والے چیلنجوں کا مقابلہ کر سکتا ہے پر تبادلہ خیال کیا جائےگا ۔ اسی دن مختلف آئینی امور پر بیک وقت تین بریک آؤٹ سیشن بھی ہوں گے۔ بریک آوٹ سیشن I جو وزیر اعظم کی معاون خصوصی شازہ فاطمہ خواجہ کی صدارت میں ہو گا میں بنیادی حقوق اور آئین کے تحفظ، نفاذ اور چیلنجز پر توجہ دی جائے گی۔بریک اوٹ سیشن – II محترمہ شازیہ مری، وزیر برائے غربت کے خاتمے اور سماجی تحفظ کی سربراہی میں منعقد ہو گا جس میں “آئین اور عدالتیں، آئین کی تشریح، حقوق اور آزادیوں کا تحفظ” کے موضوع پر سیر حاصل بحث ہو گی۔تیسرا بریک آوٹ سیشن سید مصطفیٰ محمود کی صدارت منعقد ہو گا جس میں ’’آئین اور معاشی انصاف‘‘ کے موضوع پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ دوسرے دن کا اختتام سپیکر راجہ پرویز اشرف کی زیر صدارت ایکسکلوسو مساوی معاشروں کی تعمیر، چیلنجز اور مواقع کے موضوع پر ہو گا۔ کنوینشن سے کلیدی خطاب وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کریں گے جس میں جامع مساوی معاشروں کی تعمیر میں آئین کے کردار پر اظہار خیال کیا جائے گا۔
کنونشن کا اختتام پیش کی جانے والی سفارشات پر مبنی دستاویز کی منظوری کے ساتھ اختتام پذیر ہو گا جس میں شریک ریاستوں کے درمیان تعاون کو بڑھانے کے لیے مزید کارروائی کے لیے رہنما خطوط مرتب کیے جائیں گے۔











