کوئٹہ،16مئی(اے پی پی):وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا ، اجلاس میں متعدد اہم فیصلے کیے گئے ، صوبائی کابینہ نے بلوچستان پبلک پروکیورمنٹ رولز 2014 ، کے رول 56-A کے تحت پروکیورمنٹ جائزہ کمیٹی کی بحالی کی منظوری دے دی۔کابینہ نے بلوچستان وومین ڈویلپمنٹ سیکٹر پلان 2022- 27 کی منظوری دے دی ۔ اسی طرح سے کابینہ نے پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کی تعیناتی سے متعلق سرچ کمیٹی کی سفارشات کی منظوری دے دی ، ان یونیورسٹیوں میں بولان یونیورسٹی آف میڈیکل سائینسز ،خضدار یونیورسٹی آف انجینئرنگ اور لورالائی یونیورسٹی شامل ہیں ۔ کابینہ نے آئی ٹی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی نامزدگی کا معاملہ پارلیمانی کمیٹی جبکہ میر چاکر یونیورسٹی سبی کے وائس چانسلر کی نامزدگی کامعاملہ دوبارہ سے سرچ کمیٹی کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا ۔ کابینہ نے بلوچستان چائلڈ ریسٹرینٹ بل 2023 ء کی منظوری دے دی جس کے تحت اٹھارہ سال سے کم عمر بچوں کی شادیوں کی ممانعت ہوگی ۔
کابینہ نے جیڈا کے 37کنٹریکٹ ملازمین کی مستقلی کی منظوری دی ۔ کابینہ نے بلوچستان کی پہلی سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ایس ایم ای ڈویلپمنٹ حکمت عملی کی منظوری دے دی ۔ کابینہ نے ضلع آواران میں جی او آر کالونی کی تعمیر سے متعلق تخمینہ لاگت کو بڑھانے کی منظوری بھی دی ۔
کابینہ نے کڈنی سینٹر کوئٹہ کے لئے نئے ترقیاتی منصوبوں کے نظر ثانی شدہ پی سی ون کی بھی منظوری دی کابینہ نے دور رویہ مشرقی بائی پاس کوئٹہ کے ترقیاتی منصوبے کے ترمیم شدہ پی سی ون کو منظور کر لیا کا بینہ نے 18 ویں ترمیم کے تحت پی ایم ڈی سی کو دی گئی لیز ز کو واپس لینے کی منظوری بھی دی کا بینہ نے بلوچستان لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2010 کے ایکٹ پانچ میں نئے سیکشن 24 اے کو شامل کرنے کی بھی منظوری دی کابینہ نےبلوچستان بورڈ آف انوسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تشکیل کی منظوری دے دی۔











