پشاور شہر ہم سب کا مشترکہ گھر ہے،اسکی خوبصورتی کیلئے ہم سب کو ذمہ داریاں ادا کرنا ہونگی: گورنر حاجی غلام علی

43

پشاور،4 مئی(اے پی پی): گورنر خیبر پخونخوا حاجی غلام علی کی زیر صدارت پشار شہر کی خوبصورتی کیلئے پشاور اپ لفٹ منصوبوں سے متعلق اعلی سطحی اجلاس گورنر ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں نگران صوبائی وزراء سید حامد شاہ، فضل الٰہی، کمشنر پشاور محمد زبیر، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ عامر آفاق، سیکرٹری پلاننگ اینڈ ڈویلیپمنٹ محمد خیام حسن، سیکرٹری پبلک ہیلتھ انجینئرنگ محمد خالد، پراجیکٹ منیجر نیسپاک انجنئیر عامر رشید، پرنسپل سیکرٹری برائے گورنرارشاد مظہر سمیت دیگر سرکاری حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں گورنر کو پشاور اپ لفٹ بیوٹیفیکیشن منصوبوں سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ پشاورکو خوبصورت بنانے کیلئے صوبائی حکومت کے پراجیکٹ منیجمنٹ اینڈ ایمپلینٹیشن یونٹ(PMIU) کے تحت  5 ارب روپے کی لاگت سے حیات آباد، پلوسی، پشاوریونیورسٹی، یونیورسٹی روڈ، یونیورسٹی ٹاؤن میں بیوٹیفیکیشن کے 150اسکیمیں شامل ہیں، منصوبہ کے فیز ون میں 2 ارب روپے کی لاگت سے بیوٹیفیکیشن کے منصوبوں میں 1.22 ارب روپے کی لاگت سے6کلومیٹر پر مشتمل حیات آباد ٹریل، 171 ملین روپے کی لاگت سے پلوسی روڈ، یونیورسٹی ٹاؤن، یونیورسٹی روڈ پر بیوٹیفیکیشن کے منصوبے جاری ہیں جبکہ فیز ٹو میں 3 ارب روپے کی لاگت سے پشاور شہر میں بیوٹیفیکیشن کے دیگر منصوبوں پر کام شروع کیا جائے گا۔گورنرنے یونیورسٹی روڈ پرجاری بیوٹیفیکیشن سکیم کے تحت نصب کئے جانیوالے ستونوں کے درمیان فاصلہ کم کرنے اور انہیں مزید خوبصورت بنانے کی تجویز پیش کی اور کہاکہ ایسا نہ ہو کہ کاروباری جگہ ہونے کے باعث مستقبل میں دوکانداروں اور عام افراد کو کارپارکنگ جیسے مسائل کا سامناہو۔

          اس موقع پر گورنر حاجی غلام علی نے پشاور شہر کی خوبصورتی کیلئے اربوں روپے کے سکیموں میں معیاری طرز تعمیر اور عوامی پیسے کے درست استعمال کو یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ دکھ ہوتاہے کہ جب جدید ٹیکنالوجی کے دور میں عمدہ تعمیراتی معیار دکھائی نہیں دیتا جبکہ پشاورمیں 100 سال پرانی تاریخی عمارات کامعیاراورطرز تعمیر آج بھی قابل دیدہے۔گورنرنے کہاکہ صوبائی وزیراعلی اور وزراء بھی صوبے کی ترقی کے ساتھ ساتھ پشاور کی خوبصورتی وترقی میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پشاور شہر کی خوبصورتی کے سکیموں کے فیز 2 میں قصہ خوانی بازارسے چوک یادگار، نمک منڈی اورشعبہ بازار کوبھی شامل کیاجائے۔انہوں نے کہاکہ ہاؤسنگ سکیموں سمیت تمام تعمیرات میں 40 فٹ سڑک اورگلیوں کی 30 فٹ کشادگی یقینی بنائی جائے۔ گورنرنے پشاور شہر میں ایڈونچرپارک کی اہمیت کوواضح کرتے ہوئے کہاکہ یہ شہریوں کیلئے ایک اچھاتفریحی منصوبہ ہوگا جس کیلئے ابھی سے موزوں جگہ پر کم ازکم 400 کنال اراضی کی نشاندہی کی جائے۔ انہوں نے ورسک ڈیم سے پشاور شہر کو پانی فراہم کرنے کے منصوبے کو بھی انتہائی اہمیت کا حامل قراردیتے ہوئے کہاکہ یہ منصوبہ پشاور کیلئے انتہائی ضروری ہے اوراسے جلد ازجلد شروع کرنا اور پایہ تکمیل تک پہنچانا وقت کی ضرورت ہے۔