کل تک خود کوفرعون سمجھنے والا آج مذاکرات کی بھیک مانگ رہا ہے،کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے؛ وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ

26

فیصل آباد،27مئی (اے پی پی):وفاقی وزیر داخلہ وصوبائی صدر پاکستان مسلم لیگ (ن)پنجاب رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ عمرانی فتنے نے ہمیشہ تکبر اور نفرت کی سیاست کی جس کے باعث آج وہ اللہ کی پکڑ میں ہے،کل تک خود کو فرعون اور بہت بڑی طاقت سمجھنے والا آج اکیلا لاچار اور مذاکرات کی بھیک مانگ رہا ہے لیکن اب اس سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔

وہ ہفتہ کی رات گئے گلالی پور فیصل آباد میں عوامی اجتماع سے خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پر سابق ایم پی اے میاں اجمل آصف، دیگر لیگی رہنما اور کارکنان بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔

وفاقی وزیر داخلہ وصوبائی صدر پاکستان مسلم لیگ (ن)پنجاب رانا ثنااللہ نے کہا کہ 9 مئی کو جو کچھ کیا عمران خان کو اس کا حساب دینا ہوگا، کل تک جو اس کی نفرت اور رعونت کے ساتھی اور کہتے تھے کہ ہم مخالفین کی شکل نہیں دیکھنا چاہتے وہ آج روزانہ ٹی وی چینلز پر آکرقوم سے معافیاں اور اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے عمران خان کو اللہ حافظ اورپی ٹی آئی کو خدا حافظ کہہ رہے ہیں جن پر کسی بھی قسم کا کوئی دباؤ نہیں لیکن بات صرف یہ ہے کہ اب انہیں نظر آرہا ہے کہ انہوں نے ملک و قوم کے شہدا کے ساتھ جو حرکت کی ہے اس پر اب وہ اللہ کی پکڑ اور قانون کی گرفت میں آچکے ہیں لہٰذا اب کوئی کہتا ہے کہ میں نے دس دن قید تنہائی کاٹی ہے،کوئی کہتا ہے کہ میں بارہ دن جیل میں رہا ہوں، کوئی کہتا ہے کہ اس کا ضمیر اس کو ملامت کررہا ہے اسلئے وہ فتنے اور پارٹی کو نہ صرف خیر باد بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے سیاست چھوڑنے کا بھی اعلان کرتے ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ہمیں پہلے ہی خدشہ تھا اور ہم بار بار یہ بات کہہ بھی رہے تھے کہ یہ ایک فتنہ ہے اسلئے اگر قوم نے اس کا ادراک نہ کیا تو یہ ملک و قوم کو کسی بڑے حادثے کا شکار کردے گا لیکن اللہ کا شکر ہے کہ قوم اس سے بچ گئی اور اس نے خود اور اپنی پارٹی کو اس حادثے کا شکار کردیا جس کے نتائج اب اسے بھگتنے ہوں گے۔انہوں نے کہا کہا جن لوگوں نے شہدائے قوم کی فیملیز کا دل دکھایا انہیں اس کی سزا بھگتنا ہوگی۔

وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کہا کہ عمران خان اب اتنا خوف زدہ ہے کہ بار بار کہتا ہے کہ میں مذاکرات کیلئے تیار ہوں جبکہ پہلے یہ مذاکرات کے نام پر کہتا تھا کہ میں اپنے سیاسی مخالفین کی شکل نہیں دیکھنا چاہتا اسلئے اب ہم یہ کہتے ہیں کہ اگر اب ہم اس سے مذاکرات کریں تو ہم ان شہدا کے خاندانوں کو کیا منہ دکھائیں گے جن کے جوانوں نے ملک وقوم کیلئے اپنی قیمتی جانوں کے نذرانے پیش کئے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان نے ہمیشہ نفرت کی سیاست کی،اس نے اپنے مخالفین کو چور کہا،جب عمران خان نے ہم پر جھوٹے مقدمات کئے تب بھی اس کو شرم نہیں آئی کہ وہ کس قسم کے مقدمے بنارہا ہے حتیٰ کہ ان پر منشیات کا ایسا مقدمہ بنایا گیا جس کی سزا موت تھی اور انہیں گرفتاری کے بعد ایک ماہ تک عدالت میں پیش نہیں کیا گیا لیکن جس دن انہیں عدالت میں پیش کیا گیا انہوں نے کہا کہ پہلے میں اپنے قائدین کے ساتھ سو فیصد کھڑا تھا لیکن اب ایک ہزار فیصد اپنے قائدین کے ساتھ ہوں یہ سیاست ہوتی ہے، یہ سیاست نہیں ہوتی کہ جو کل تک سندھ کا گورنر رہا ہو، وفاقی و صوبائی وزیر رہا ہو، ممبر اسمبلی رہا ہو وہ ایک ہفتے میں ہی رو رو کر ٹی وی پر آکر کہے کہ اس کی جیل میں ایک ہفتہ میں ہی بس ہوگئی ہے اسلئے وہ توبہ کرتے ہوئے فتنے سے علیحدگی، پارٹی چھوڑنے اور ہمیشہ کیلئے سیاست کو خیر باد کہتے ہیں۔

 رانا ثنااللہ  نے کہا کہ انگلینڈ کی حکومت کی جانب سے پاکستان کی حکومت کو واپس کیا گیا پاکستانی قوم کا لوٹا ہوا60 ارب روپے جو حکومت کو ملنا اور عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ ہونے تھے وہ اس نے بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض کو واپس کردیئے اور اس کے بدلے سوہاوہ میں 458 کنال اور بنی گالہ میں 225 کنال زمین لی جس کی مالیت 6 سے8 ارب روپے بنتی ہے اس طرح اس نے ملک ریاض سے بھاری فائدہ لیا۔انہوں نے کہا کہ جب یہ ہمیں چور ڈاکو کہہ کر ہم پر کرپشن کے الزامات لگا رہا تھا عین اس وقت اس کی فرنٹ مین فرح گوگی اربوں روپیہ لوٹ کر ملک سے باہر منتقل کررہی تھی جس کے تمام ثبوت موجود ہیں اور ان سب کو اس کا حساب دینا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ جب اسے القادر ٹرسٹ کیس میں انکوائری کیلئے طلب کیا گیا تو اس نے کہنا شروع کردیا کہ عمران خان ہماری ریڈ لائن ہے یعنی اس سے کرپشن کا حساب نہ مانگا جا ئے ورنہ یہ ملک میں تباہی مچادے گا اور اس نے حقیقت میں 9مئی کو یہ سب کچھ کردکھایا۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ وزیر آباد میں جب عمران پر حملہ ہوا تب اس نے شہباز شریف، ان پر اور ایک اعلیٰ فوجی افسر پر الزام لگایا،اس نے نوجوانوں میں نفرت کا بیج بویا،اس نے نوجوانوں کو سکھایا کہ دوسری پارٹی کو چور کہو۔انہوں نے کہا کہ اس نے ہر طرف نفرت ہی نفرت پھیلائی حالانکہ نفرت پھیلتی نہیں بلکہ تباہی کرتی ہے،جس معاشرے میں نفرت پھیلے وہ تباہ ہو جاتا ہے،جس گاؤں میں نفرت پھیلے وہ گاؤں تباہ ہوجاتا ہے حتیٰ کہ جس گھر میں نفرت پھیلے وہ گھر بھی تباہ ہوجاتا ہے لیکن اس نے نفرت پھیلاکر خود اور اپنی پارٹی کو تباہ کرلیا،عمران خان نے پورے ملک میں نفرت پھیلانے کی کوشش کی، اب عمران خان کی حالت یہ ہے کہ اکیلا بیٹھا مذاکرات کی پیش کش کررہا ہے۔