کوئٹہ۔19جون (اے پی پی): وفاقی و زیر انسداد منشیات نوابزدہ شازین بگٹی نے کہا ہے کہ پاکستان میں ایران کی طرز پر ڈرگ تھراپی سینٹر بنانے کی ضرورت ہے۔ نشے کی لعنت قومی سیکورٹی کےلیے چیلنج بن چکی ہے منشیات کے کاروبار سے وبستہ افراد نے کالا دھن بنایا ہوا ہے جس کی خرید و فروخت سے حاصل ہونیوالی آمدن سنگین جرائم میں استعمال ہورہی ہے گیارہ سال سے چالیس سال تک کے عمر کی ایک بڑی تعداد مختلف علا قوں میں منشیات کا شکار ہیں ملک بھر میں چار ہزار اے این ایف کے اہلکار منشیات کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے کوشاں ہیں، پاکستان میں نوجوان تیزی سے منشیات کے عادی ہو رہے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو اینٹی نار کو ٹیکس کی جانب منشیات نذر آتش کرنے کی تقریب سے خطاب کر تے ہو ئے کہی وفاقی وزیر انسداد منشیات منشیات نوابزادہ شازین بگٹی کا کہنا تھا منشیات جیسے موزی مرض نے بہت سے انسانی جانیں نگل گئیں ہیں عوام منشیات کے خاتمے کے لئے حکومت کا ساتھ دیں۔اس موقع پر ڈائر یکٹر جنرل اینٹی نارکو ٹیکس میجر جنر ل انیق الرحمان کا کہنا تھا کہ منشیات کی وجہ سے معاشرے کو سنگین خطرات لائق ہے جس کے لئے سب کو کردار ادا کرنا ہو گا 86 میٹرک ٹن منشیات کئی زندگیوں کی ہلاکت کا سبب بن سکتی تھی پکڑے جانیوالی منشیات ان گنت جانوں کو بچانے کا زریعہ بنی ہے انہوں نے کہا کہ کسی بھی مذہب میں منشیات کے استعمال کی اجازت نہیں پاکستان میں منشیات کی روک تھام ایک بہت بڑا چیلنج ہے 2016 میں ایک سروے کے مطابق 7 لاکھ پاکستانی منشیات سے متاثر تھے آ بادی بڑھنے کے ساتھ منشیات کے عادی افراد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ تقریب کے اختتام پر صوبے کے مختلف علا قوں سے پکڑی جانیوالی 86 میٹرک ٹن منشیات جلائی گئی عالمی مارکیٹ میں مالیت تقریباً 5 ارب روپے سے زائد تھے تین ہزار کلو گرام چرس 19ہزار سات سو کلو گرام آفہیم شامل تھیں جبکہ 1900 کلو گرام سے ذائد ہیروئن اور 954 کلو گڈام آئس 17ہزار لیٹر سے زائد ایچ سی ایل ساڑھے پانچ ہزار لیٹر کیمیکل تین ہزار سات سو موروفین شامل تھے۔











