ملتان، 15 جولائی(اے پی پی ):ایڈیشنل چیف سیکرٹری جنوبی پنجاب کیپٹن(ر) ثاقب ظفر نے کہا ہے کہ حکومت پنجاب کاشتکاروں کو کپاس کا معاوضہ 8500 روپے فی 40کلو گرام یقینی بنانے کیلئے عملی اقدامات اٹھارہی ہے اس ضمن میں وفاقی حکومت کی جانب سے ٹریڈ نگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) کو روئی کی خریداری کیلئے ہدایات جاری کردی گئی ہیں جس سے کاشتکاروں کو وفاقی حکومت کی اعلان کردہ امدادی قیمت کے ثمرات حاصل ہوں گے۔
وہ آج سول سیکرٹریٹ بہاولپور میں کپاس کی موجودہ صورتحال سے متعلق منعقدہ ڈویژنل سطحی اجلاس کی صدارت کررہے تھے۔انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب میں کپاس کی بھرپور کاشت کا دور واپس لوٹ آیا ہے جوکہ ملک میں معاشی انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔
اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے شرکاء کو بتایا کہ بہاولپور ڈویژن میں جعلی زرعی ادویات کے خلاف جاری مہم کے دوران ماہ جون سے اب تک محکمہ زراعت نے20 ریڈ کئے ہیں اور1کروڑ21لاکھ روپے مالیت کی زائد المعیاد زرعی ادویات کو ضبط کر کے اس میں ملوث20 افراد کے خلاف ایف آئی آر کا اندراج عمل میں لایا گیا ہے۔
اس موقع پرسیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی سہو نے ہدایت کی کہ جعلی زرعی ادویات کے خلاف خفیہ معلومات کی بنیاد پر ٹارگیٹیڈ آپر یشن کئے جائیں اور روٹین کے سیمپلز کی تعداد میں بلاوجہ اضافہ ہرگز نہ کیا جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ یوریا کھاد کی ٹریک اینڈ ٹریس ایبلٹی کے نظام کی شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے سخت مانیٹرنگ کی جائے۔
اس موقع پر سیکرٹری زراعت پنجاب نے کہا کہ کپاس کی اگیتی چنائی کے دوران کاشتکاروں کو خشک و صاف چنائی سے متعلق فنی راہنمائی فراہم کی جائے اور انہیں آگاہی دی جائے کیونکہ نمی اور ملاوٹ شدہ پھٹی کی مارکیٹ میں کم قیمت ملتی ہے اس لئے کاشتکاران گائیڈ لائن کو مدِ نظر رکھتے ہوئے صاف چنائی کریں۔ انھوں نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو اپنے متعلقہ ضلع میں زیادہ سے زیادہ جننگ فیکٹریوں کوآپریشنل کرانے کی ہدایت کی اورجننگ فیکٹریوں کے مالکان کوکاشتکاروں کے ساتھ پھٹی کی خرید میں تعاون کرنے اور 8500 روپے فی من قیمت دینے کا بھی پابند کیا جائے اور اس سلسلہ میں غلہ منڈیوں،جننگ فیکٹریوں میں کپاس کی کم از کم قیمت8500روپے فی 40کلو گرام یقینی بنانے کیلئے مانیٹرنگ کی جائے تاکہ کاشتکاروں کو پھٹی بیچنے میں مشکلات کا سامنا نہ ہو۔
انھوں نے ہدایت کی کہ ڈائریکٹرز سے لیکر زراعت آفیسرز تک روزانہ کی بنیاد پر کم از کم ایک جننگ فیکٹری کا اچانک دورہ کرے اور کپاس کی پھٹی کی آمد، اسٹاک پوزیشن، پھٹی کے معیار،گانٹھوں کا وزن، گانٹھوں پر مارکہ لگانے اور آمدہ رجسٹر چیک کرکے روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ تیار کرکے پیش کی جائے۔
اس موقع پر بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ بہاولپور ڈویژن میں گرمی اور حبس بڑھنے کے باعث سبزتیلے اور تھرپس کا حملہ مشاہدہ میں آیا ہے جبکہ سفید مکھی کا حملہ کم ہے۔ اس وقت بہاولپور ڈویژن میں 352ٹیمیں پیسٹ سکاؤٹنگ اور فیلڈ انسپکشن میں مصروف ہیں اور اب تک615 ہاٹ سپاٹس رپورٹ ہوئے ہیں جن کی مکمل ٹریٹمنٹ کرائی جاچکی ہے۔
اس موقع پر سیکرٹری زراعت پنجاب نے کہا کہ بہاولپور ڈویژن صوبہ کی مجموعی کاشتہ کپاس کا50 فیصد ہونے کی وجہ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ آئندہ دوماہ کپاس کی نگہداشت کے حوالے سے انتہائی اہم ہیں۔تمام ڈویژنل ڈائریکٹرزراعت توسیع و پیسٹ وارننگ اپنے فیلڈ اسٹاف کے ہمراہ کاشتکاروں کے شانہ بشانہ شریک ہوں۔انہوں نے ہدایت دی کہ ڈویژنل ایکسپرٹ گروپس کے ممبران کپاس کی پیسٹ سکاؤٹنگ، سرویلنس،نگرانی اور ضرررساں کیڑوں کے حملہ کوبروقت کنٹرول کرنے بارے کاشتکاروں کو رہنمائی فراہم کریں۔
بریفنگ کے دوران مزید بتایا گیا کہ بہاولپور ڈویژن میں تقریباً 15فیصد رقبہ پر کپاس کی اگیتی فصل کاشت ہوئی جس کی چنائی کا عمل جاری ہے جس کی پہلی چنائی کے نتیجہ میں 13سے14 من فی ایکڑ پیداوارحاصل ہورہی ہے۔ اب تک بہاولپور ڈویژن میں 8 جننگ فیکٹریاں آپریشنل ہیں۔











