جدید زرعی تحقیق کے ثمرات کاشتکاروں تک پہنچنا ضروری ہیں، بورڈ کا اجلاس ہر ماہ باقاعدگی سے منعقد کیا جائے، صوبائی وزیر زراعت

16

لاہور، 04 اگست(اےئ پی پی): صوبائی وزیر زراعت، صنعت وتجارت ایس ایم تنویر کی زیر صدارت پنجاب ایگریکلچر ریسرچ بورڈ کا 48واں اجلاس بورڈ کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا جس میں 15 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا۔ بورڈ نے زرعی تحقیق کے 90 کروڑ روپے مالیت کے 40 مختلف منصوبوں کی منطوری دی۔ اجلاس  میں بورڈ کی ایگزیکٹو کمیٹی کی تنظیم نو کی بھی منظوری دی گی۔

صوبائی وزیر زراعت، صنعت وتجارت ایس ایم تنویرنے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ زرعی منصوبہ جات کے ثمرات کاشتکاروں تک پہنچنا ضروری ہیں۔ زرعی منصوبہ جات مارکیٹ اور کمرشل پیمانے پر ڈیمانڈ کے مطابق ترتیب دئیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ ایسے زرعی منصوبہ پر کمرشل پیمانے پرعملدرآمد کی ضرورت ہے جس سے عوام کی ڈیمانڈ پوری ہو اور قیمتوں میں بھی استحکام پیدا ہو سکے۔زرعی سائنسدان پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لئے تحقیقی منصوبوں کو تیزی سے آگے بڑھائیں۔صوبائی وزیر زراعت ایس ایم تنویر نے چیف ایگزیکٹو پارب ڈاکٹر عابدمحمود کو پارب کی کارکردگی کے متعلق جامع رپورٹ پیش کرنے اور منصوبہ جات کی سکروٹنی کے لئے خصوصی کمیٹی قائم کی ہدایت بھی کی۔

سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی سہو نے کہا کہ ریسرچ کا مقصد”ریسرچ برائے ریسرچ“ نہیں ہونی چاہیے بلکہ فصلوں کی ایسی اقسام کی تیاری ہونا چاہیے جو تجارتی پیمانے پر کاشتکاروں کے منافع میں اضافہ اور عوام کیلئے ریلیف کا باعث بن سکیں۔ انھوں نے سورج مکھی کی ہائبرڈ اقسام کی تیاری کے دوران پہلے سے موجود زرعی ریسرچ کو بھی مدِ نظر رکھنے کی ہدایت کی۔ انھوں نے مزید کہا کہ ریسرچ کو بامقصد ہونا چاہیے اور اس ضمن میں زرعی سائنسدانوں کو غیر ملکی اداروں کوآن بورڈ لینے کی ضرورت ہے۔ چیف ایگزیکٹو پارب ڈاکٹر عابد محمود نے بورڈ کی کارکردگی اور زرعی تحقیق کے منصوبوں پر پیشرفت بارے بریفنگ دی۔اجلاس میں سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی سہو، وائس چانسلر ایم این ایس زرعی یونیورسٹی ملتان ڈاکٹر آصف علی سمیت دیگر ممبران نے بھی شرکت کی۔