سیلاب سے  پیشگی خبردار کرنے کے نظام  کو بہتر بنا کر  نقصانات سے بچا جا سکتا ہے؛احمد عرفان اسلم

13

اسلام آباد، 29اگست(اے پی پی):نگران وفاقی وزیر برائے آبی وسائل احمد عرفان اسلم  نے کہا ہے کہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچنے کے لئے فول پروف انتظامات  کی ضرورت ہے ، ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے فلڈ مینجمنٹ منصوبے پر کام کو آگے بڑھانے میں مدد ملی ہے، پچھلے 20 سال میں دنیا میں  قدرتی آفات سے 2.9 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہوا ہے،سیلاب سے ہونے والی تباہی سےپیشگی خبر دار کرنے کے نظام  کو بہتر بنا کر  بڑے پیمانے پر نقصانات سے بچا جا سکتا ہے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو یہاں “قومی ماسٹر پلان برائے فلڈ ٹیلی میٹری ” کے اجرا کی تقریب  خطاب کرتےہوئے کیا۔

تقریب سے خطاب کرتےہوئے نگران وفاقی وزیر نے کہا کہ  سیلاب سے  ہر سال  بہت نقصان ہوتاہے ۔ سیلاب سے بچائو کے لئے  احتیاطی اقدامات انتہائی ضروری ہیں، اس کے ساتھ ساتھ زیر زمین پانی کی سطح میں بھی  کمی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ 2010 میں ملک میں  بہت بڑا سیلاب آیا جس سے ہم نے  بہت تباہ کاریاں دیکھیں ، 80 اور 90 کے عشروں میں بھی سیلاب سے بہت نقصان ہوا، پچھلے  20 سال کے دوران دنیا میں   قدرتی آفات سے  2.9 ٹریلین  ڈالرکا نقصان ہوا جن میں سے  55 فیصد نقصان سیلاب سے دیکھنے میں آیاہے۔

نگران وفاقی وزیر برائے آبی وسائل احمد عرفان اسلم  نے کہا کہ پاکستان میں  سیلاب سے اب تک مجموعی طورپر 100 ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے اور صرف گزشتہ سال ہونے والے نقصان کا تخمینہ  30 ارب  ڈالر ہے، یہ انتہائی تشویشناک ہے صورتحال ہے، سیلاب کی تباہ کاریاں نے ملک کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں  نے کہا کہ اگر ہمیں معاشی  شعبے کو مضبوط بناناہے اور آگے بڑھنا ہے تو  سیلاب  کی صورتحال سے نمٹنے اور سیلاب سے بچائو کے لئے  جامع منصوبہ  بندی کرنا ہو گی۔ اس سلسلہ میں  آج کی یہ تقریب انتہائی اہمیت کی حامل ہے اس سے ہمیں اپنی منصوبہ  بندی کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

 نگران وفاقی وزیر برائے آبی وسائل احمد عرفان اسلم  نے کہا کہ سیلاب سے ہونے والی تباہی سےپیشگی خبر دار کرنے کے نظام  کو بہتر بنا کر بچا جا سکتا ہے لیکن یہ کام موثر ٹیلی میٹری  سسٹم کے بغیر  نہیں ہو سکتا۔انہوں  نے کہا کہ اس سلسلہ میں فیڈرل فلڈ کمیشن کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور  ایشیائی ترقیاتی بینک اور فیڈرل فلڈ کمیشن کے درمیان اشتراک کار  انتہائی خوش آئند ہے۔

وفاقی وزیر برائے آبی وسائل احمد عرفان اسلم  نے کہا کہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچنے کے لئے فول پروف انتظامات  کرنے ہوں گے۔ اس کے لئے حکومت مکمل طور پر  پرعزم ہے۔ 2022 میں آنے والے سیلاب  کے نقصانات سے سبق سیکھتے ہوئے  حکومت نے  سیلاب سے تحفظ کے پلان کو بہتر بنانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے لئے  ایشیائی ترقیاتی بینک کا تعاون  قابل تحسین ہے اور اس کے لئے ایکنک نے 194 ارب روپے سے زائد کے پی سی ون کی منظوری دی ہے۔ یہ سیلاب سے بچائو کے لئے  حکومتی عزم  کاعکاس ہے۔اس کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کی زندگیوں اور ان کے کاروبار کو محفوظ بنایا جا سکے۔امید ہے کہ اس ورکشاپ کے انعقاد سے سیلاب سے بچائو اور لوگوں کے مال و جان کے تحفظ کے لئے موثر منصوبہ بندی اور اقدامات کویقینی بنایا جا سکے گا۔