ملتان، 10 ستمبر (اے پی پی ):میڈیکل اینڈ ڈینٹل انٹری ٹیسٹ میں شریک طالبات اور والدین نے ایف ایس سی لیول پر امتحانی نظام کو فول پروف بنانے پر زور دیا ہے اور انٹری ٹیسٹ کو طلبہ پر نفسیاتی اور والدین پر مالی بوجھ قرار دیا ہے۔
میڈیکل انٹری ٹیسٹ کے موقع پر ماہین ملک نے کہا کہ سوال یہ نہیں ہے کہ انٹری ٹیسٹ ناگزیر ہے، دو سال ایف ایس سی میں دن رات مغز ماری کے بعد انٹری ٹیسٹ ذہانت کا کون سا لیول بنتا ہے۔ انہوں نے میڈیکل کالجز میں نشستیں کم ہونے کی بھی نشاہدہی کی اور پچاس فیصد اضافہ کا مطالبہ کیا۔
ایک اور میڈیکل طالبہ وانیہ نے کہا کہ انٹری ٹیسٹ تو مشکل تھا نہ آسان لیکن فیل پاس کا دھڑکا لگا ہوا ہے کہ کہیں ایف ایس سی کے بہترین نمبر ضائع نہ ہو جائیں۔
انٹری ٹیسٹ کے موقع پر طالب علم کے والد فیاض انور ملک نے کہا کہ ایف ایس سی سطح پر امتحانی نظام کو فول پروف بنا لیا جائے تو انٹری ٹیسٹ کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی ۔محمد خان نے کہا کہ انٹری ٹیسٹ تو محض نوازنے کا سلسلہ لگتا ہے، والدین پر بوجھ ہے۔











