پشاور، 22ستمبر(اے پی پی): پشاور پولیس نے پشاور سمیت صوبہ(خیبرپختونخواہ) بھر میں ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ چیٹنگ سکینڈل میں ملوث نیٹ ورک کے ماسٹر مائنڈ و دیگر تمام ملزمان کو بے نقاب کردیا ٍ۔
پشاور سمیت صوبہ کے مختلف اضلاع میں ایٹا کی جانب سے ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں پولیس اوردیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اطلاع موصول ہوئی تھی کہ ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ میں بڑے پیمانے پر سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت سیلولر ڈیوائسز کے ذریعے پیپر آوٹ کرکے امتحانی پرچوں کو نقل کے ذریعے حل کرایا جارہا ہے اور صوبے بھرکے امتحانی مراکز میں بلو تھ ڈیوائسزکے ذریعے طلبا ءو طالبات کی بڑی تعداد چیٹنگ میں ملوث ہے۔
اطلاع ملنے پر پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے فوری طورپرحرکت میں آ گئے اور انہوں نے ٹیسٹ کے دوران صوبہ بھر کے امتحانی مراکز میں چھاپے مارتے ہوئے انتظامیہ اور پولیس کے ذریعے طلباءو طالبات کی چیکنگ شروع کردی اور چیٹنگ سکینڈل کے گروہ میں شامل افراد کیساتھ بھاری رقوم کے عوض انٹری ٹیسٹ پاس کرانے کی بات طے کرکے الیکٹرانک ڈیوائسز کے ذریعے نقل کرنے والے 74طلباء و طالبات کو گرفتار کرکے ان کے خلاف پشاور کے 8 تھانوں میں 19مقدمات درج کردیے گئے اور امتحانی مراکز سے گرفتار کیے جانے والے تمام ملزمان (امیدواروں )کو چالان کرتے ہوئے عدالت میں بھی پیش کردیا گیا۔
کیپٹل سٹی پولیس اور کوہاٹ پولیس کی خصوصی ٹیم نے چیٹنگ کے میگا سکینڈل میں ملوث مرکزی ملزمان کا سراغ لگانے کیلئے بھی ٹیم کے ذریعے کارروائیاں کرتے ہوئے خصوصی ڈیوائسز کے ذریعے نقل فراہم کرنے والے منظم اور ماسٹرمائنڈ نیٹ ورک کا سراغ لگا کر کرک سے تعلق رکھنے والا میگا سکینڈل کے مرکزی ماسٹر مائنڈ ظفر خٹک اور اس کے بھائی اور اسکے ساتھ شامل دیگر کرداروں کو بے نقاب کر دیا اور ماسٹر مائنڈ سمیت نیٹ ورک کے اہم 5 کارندوں فہد ولد نورالبصر سکنہ تیرائی پشاور، فضل سبحان سکنہ درگئی ، ارشد انورسکنہ مردان، فضل وہاب اور امین اللہ ولد نیاز علی سکنہ جنوبی وزیرستان کو گرفتار کرلیا ،گرفتار کیے جانے والے ملزمان اعلیٰ تعلیم یافتہ اور جدید تربیت یافتہ ہیں ،ملزمان ٹیسٹ کے دوران مختلف امتحانی سنٹروں میں ٹیسٹ چیٹنگ کیلئے خصوصی ڈیوائسز کے ذریعے منسلک ہو کر نقل فراہم کررہے تھے۔
گرفتار ملزمان سے ابتدائی تفتیش کے دوران برآمد ہونے والے الیکٹرانک آلات کا ایف آئی ئی اے سے تجزیہ کرانے کیلئے رابطہ کیا گیا ہے جبکہ گرفتار کیے جانے والے تمام طلباءوطالبات اور امتحانی مراکز میں ڈیوٹی دینے والے ایٹا سٹاف کے موبائل نمبروں کی سی ڈی آر اور دیگر کوائف پر بھی کام جاری ہے۔
دوران تفتیش یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ گرفتار ہونے والے نیٹ ورک کے ارکان ایک سنٹرل لائز سسٹم کے تحت بیک وقت تمام امیدواروں کے ساتھ پیپر حل کرانے کیلئے رابطہ میں تھے ،اس سافٹ وئیر اور طریقہ کار کے حوالے سے جانچ پڑتال کیلئے ایف آئی اے سے معلومات فراہم کرنے کیلئے استدعا کی گئی ہے طلباءکے پاس موجود ڈیواسز جس سرور کے ساتھ منسلک تھی، اس کی آئی پی ایڈریس کی معلومات کیلئے بھی متعلقہ اداروں کو تحریری مراسلہ ارسال کردیا گیا ہے۔پشاور سمیت دیگر اضلاع میں کی جانے والی کارروائیوں کے دوران گرفتار ہونے والے نیٹ ورک کے ارکان کے قبضہ سے 44 عدد الیکٹرانک ڈیوائسز، 4 عدد مائیکروفونز، 3 عدد موبائل فونز، ایک سمارٹ واچ اور لاکھوں روپے مالیت کا ایک بنک چیک بھی برآمد کرلیا گیا ہے۔











