گھوٹکی،23ستمبر(اے پی پی ): سپریٹنڈنٹ انجنیئر سیپکو منظور احمد سومرو نے کہا ہے کہ بجلی چوروں کو کسی صورت نہیں بخشا جائے گا، 80 ٹرانسفارمر اتارے گئے اور 40 مقدمات کا اندراج کروایا ہے، 4 غیر قانونی طور پر چلنے والے ٹرانسفارمر کو اتار کر کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
ان خیالات کا اظہار سپریٹنڈنٹ انجنیئر سیپکو منظور احمد سومرو نے اوباڑو سب ڈویژن کی جانب سے سیپکو میں منعقدہ کھلی کچہری میں میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ کھلی کچہری میں صارفین نے اضافی بلوں اور یونٹ کی شکایت کے انبار لگا دیئے۔
کھلی کچہری میں سپریٹنڈنٹ انجنیئر سیپکو منظور احمد سومرو، ایکسین ذوالفقار کلہوڑو، ایس ڈی او سیپکو احتشام الحق نے صارفین کی شکایت سنیں اور 500 سے زائد صارفین کو بقایاجات اور اضافی بلوں سمیت دیگر مسائل کو موقع پر حل کر کے صارفین کو ریلیف مہیا کیا۔
اس موقع پر سپریٹنڈنٹ انجنیئر منظور احمد سومرو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نگراں وفاقی حکومت کے احکامات پر بجلی چوری مہم جاری ہے، بجلی چوروں کو کسی صورت نہیں بخشا جائے گا، اب تک بقایاجات کی مد میں 80 ٹرانسفارمر اتارے گئے ہیں جبکہ 40 مقدمات درج کرائے ہیں اور غیر قانونی طور پر چلنے والے 4 ٹرانسفارمر پکڑے گئے ہیں جن سے ماہانہ لاکھوں روپے کی بجلی چوری کی جا رہی تھی ان بجلی چوروں کے خلاف کارروائی کے لئے مقامی ایس ڈی او کو ہدایت جاری کر دی گئی ہیں، آج کی کھلی کچہری کا مقصد صارفین کو ریلیف مہیا کرنا ہے۔
سپریٹنڈنٹ انجنیئر منظور احمد سومرو نے کہا کہ کھلی کچہری میں آنے والے 500 سے زائد صارفین کے اضافی بلوں اور بقاجات میں ریلیف فراہم کیا گیا ہے تاکہ سیپکو صارفین کے مسائل میں کمی لائی جا سکے۔
سپریٹنڈنٹ انجنیئر سیپکو منظور احمد سومرو کا مزید کہنا تھا کہ بہت جلد ضلع گھوٹکی کو بجلی چوری سے شفاف بنا دیا جائے گا اور بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔











