اوکاڑہ، 05 اکتوبر(اے پی پی): اوکاڑہ یونیورسٹی میں نینومیٹریلز کانفرنس کے آخری روز مقالہ جات میں جدت اور تحقیق کی اہمیت پہ زوردیا گیا۔
اوکاڑہ یونیورسٹی میں جاری تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس میں پاکستان اور بیرون ممالک سے آئے ہوئے سائنسدانوں کی جانب سے لیکچرز اور مقالہ جات پیش کرنے کا سلسلہ جاری رہا، یہ کانفرنس سنٹرفار نینو سائنس،شعبہ فزکس اور پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن کےاشتراک سے منعقد کی گئی اور اس کی صدارت وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد واجد نے کی۔کانفرنس کی انتظامی کمیٹی میں یونیورسٹی کے ایڈیشنل رجسٹرار جمیل عاصم اور اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر مصباح اللہ شامل تھے۔
کانفرنس کےتیسرے روز کے سیشن سے خطاب کرتےہوئے کانفرنس چئیراورسنٹر فارنینو سائنس کی ڈائریکٹر ڈاکٹر شہلا ہنی نے بتایا کہ یہ کانفرنس فزکس اور اس کی مختلف شاخوں میں ہونے والی جدید تحقیق پہ بحث کرنے اور اس کو بروئے کار لاکر معاشی و معاشرتی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر کرنے کی ایک کاوش ہے۔
کانفرنس سےجنوبی افریقہ سے آئے ہوئے معروف سائنس دان پروفیسر ڈاکٹر کے ڈی موڈی بین نے بھی خطاب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نینو میٹریلز کو استعمال کر کے موسمیاتی اور ماحولیاتی تبدیلیوں اور ان کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کو کم کر سکتے ہیں۔
جنوبی افریقہ سے ہی آئے ہوئے ایک اورمحقق پروفیسر میلک مازہ نے بتایا کہ نینو ٹیکنالوجی میڈیکل کے شعبہ میں انقلابی کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ڈاکٹر کرسٹوفر کا کہنا تھا کہ نینو ٹیکنالوجی سے مزید موثر اور تیز ترالیکٹرانک مصنوعات بنائی جا سکتی ہیں جو کہ انسانی زندگی کا آسان بنانے کے کام آئیں گی۔
کانفرنس کے دیگر مقررین میں بہاالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پروفیسر ڈاکٹر احسن مظہر اور ڈاکٹر وسیم عباس، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے پروفیسر ڈاکٹر محمد عاطف یعقوب اور ڈاکٹر محمد سرور، آزاد جموں و کشمیر سے ڈاکٹر جاوید اقبال اور ہزارہ یونیورسٹی سے ڈاکٹر خواجہ امتیاز شامل تھے۔
تین روزہ کانفرنس میں مقالہ جات، مباحث اور تعلیمی و تحقیقی اشتراک شامل ہیں۔ کانفرنس میں شریک محققین اور سائنس دان پر امید ہیں کہ اس تحقیق اور مباحثہ سے انہیں نینو ٹیکنالوجی کے استعمال سے پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں مدد ملے گی۔











