حیدر آباد،15 اکتوبر( اے پی پی ): امن کے داعی، ادیبوں اور دانشوروں نے ملکوں کی ترقی کے لیے امن، بھائی چارے اور مذہبی ہم آہنگی کے اقدامات پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پوری دنیا کو امن کی ضرورت ہے، معاشی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب امن کا پیغام عام ہو گا۔ سندھ امن کی دھرتی ہے جس نے ہمیشہ امن اور محبت کا پیغام دیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے ٹنڈو آدم میں اڈیرو لال ویلفیئر کے زیر اہتمام امن کانفرنس کے موقع پر اپنے خطاب اور “اے پی پی” سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
امن کانفرنس میں مختلف مذہبی رہنماوں، مصنفین، امن کے حامیوں اور عورتوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ سماجی تنظیم اڈیرو لال ویلفیئر کی جانب سے ٹنڈوآدم کی شاہ عبداللطیف بھٹائی میونسپل لائبریری میں “امن سب کی ضرورت ہے” کے عنوان سے امن کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس کا آغاز شاہ عبداللطیف بھٹائی کے راگ سے ہوا۔
اس موقع پر اڈیرو لال ویلفیئر کے چیئرمین راجکمار، مسیحی برادری کے رہنما فادر شہزاد مسیح، سکھ پنتھ سردار پرکاش سنگھ، ڈاکٹر جیوت سندر، ادیب اور شاعر گل حسن لاکو، ایڈووکیٹ سلیمان ڈاہری، اکبر شیخ، سید عبید اللہ شاہ، پروفیسر یاد حسین شیخ اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت دنیا انتشار اور انارکی کا شکار ہے اور اس کی بڑی وجہ عدم برداشت اور امن کے راستے کو بھول جانا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امن ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے جس کے حصول کے لیے ہر ملک اپنی پوری کوشش کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ امن صرف مذاہب کے احترام سے ہی قائم ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ اگر دنیا میں امن قائم کرنا ہے تو شاہ عبداللطیف کے پیغام اور موہن جو دڑو کے آثار کا مطالعہ کرنا ہو گا۔ مقررین نے فلسطین مسئلہ کے فوری حل کے لیے عالمی برادری کو ثالثی کا کردار ادا کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
کانفرنس کے اختتام پر امن کے لیے جدوجہد کرنے والوں کو امن ایوارڈز سے بھی نوازا گیا، امن کانفرنس مین لیلارام پریمی، سنجے کمار مامنانی، ٹیکم داس سوتھر، نارائن داس، مہیش ساگر، گلاب رائے، پروفیسر سکندر ملوکھانی، عامر وسان، نانک رام سیجوانی، عاشق ساند، عبدالستار ساند، حاجی انور سومرو، خالد خاصخیلی اور دیگر نے شرکت کی۔











