سی پیک نے لاکھوں پاکستانیوں کی زندگیوں پر انمٹ مثبت اثرات مرتب کئے ہیں، پاکستان اور چین اس تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لئے پرعزم ہیں، نگران وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی کا ”سی پیک اینڈ مائی لائف“ کے موضوع پر سیمینار سے خطاب

45

اسلام آباد۔10اکتوبر  (اے پی پی):نگران وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مرتضیٰ سولنگی نے کہا ہے کہ سی پیک نے لاکھوں پاکستانیوں کی زندگیوں پر انمٹ مثبت اثرات مرتب کئے ہیں، چین پاکستان اقتصادی راہداری علاقائی رابطے کا فریم ورک ہے، سی پیک نے ہمارے عوام کیلئے ترقی کی نئی راہیں کھولی ہیں، دونوں ممالک اس تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لئے پرعزم ہیں، سی پیک سے نہ صرف چین اور پاکستان کو فائدہ ہوگا بلکہ ایران، افغانستان، وسطی ایشیاءسمیت پورے خطے پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو ”سی پیک اینڈ مائی لائف“ کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ نگران وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) پاکستان میں بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (بی آر آئی) کا اہم جزو ہے، دس سال پہلے سی پیک کا پاکستان میں گیم چینجر کے طور پر آغاز ہوا تھا جس نے لاکھوں پاکستانیوں کی زندگیاں بدل دیں اور ان پر انمٹ مثبت اثرات مرتب کئے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور میں اورنج ٹرین، سندھ میں تھر کول اور بلوچستان میں گوادر جیسے سی پیک منصوبوں سے عوام کو بے پناہ فائدہ ہوا ہے۔ نگران وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ چین اور پاکستان آئرن برادرز ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں، حکومت اس تعلق کو نئی بلندیوں تک لے جانے کی خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں ماہ چین میں اعلیٰ قیادت کی ہونے والی ملاقاتوں سے یہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے، پاکستان کان کنی، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں زیادہ سے زیادہ دوطرفہ تعاون کا منتظر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) ون ونڈو سہولت فراہم کرنے کے لئے قائم کی گئی ہے۔ اپنے حالیہ دورہ چین کا حوالہ دیتے ہوئے نگران وفاقی وزیر نے کہا کہ مجھے دورہ چین کے دوران عوامی جمہوریہ چین کی شاندار تکنیکی ترقی کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ چین کے مشکور ہیں کہ اس کی بدولت پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ چین اور پاکستان بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (بی آر آئی) اور چین پاکستان اقتصادی راہداری کی 10 ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری علاقائی رابطے کا فریم ورک ہے، سی پیک سے نہ صرف چین اور پاکستان کو فائدہ ہوگا بلکہ ایران، افغانستان، وسطی ایشیائی ریاستوں سمیت پورے خطے پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک جس نے پاکستان کی اقتصادی و سماجی ترقی میں مدد کی، نے ہمارے عوام کیلئے ترقی کی نئی راہیں کھولی ہیں، دونوں ممالک اس تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لئے پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کی 10 ویں سالگرہ کے حوالے سے حالیہ دنوں میں متعدد تقریبات کا انعقاد ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین اور پاکستان کے درمیان سی پیک اور بی آر آئی کے دیگر منصوبوں نے بنیادی ڈھانچے پر توجہ مرکوز کی ہے۔ ان منصوبوں کو لوگوں کی آمدن بڑھانے اور روزگار کے مواقع میں اضافہ کے لئے ترتیب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ روڈ، ریل اور فضائی ٹرانسپورٹیشن کے بہتر نظام کے ذریعے جغرافیائی روابط بڑھنے سے لوگوں سے لوگوں تک روابط اور ثقافتی تعلقات کو فروغ ملے گا جبکہ کاروبار کے زیادہ حجم کے نتیجے میں ہم آہنگی اور پائیدار ترقی ممکن ہو سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) گلوبلائزڈ دنیا میں اقتصادی ترقی کی جانب سفر ہے، یہ ”آئیڈیل امن اور ترقی سب کے لئے “ کے ماڈل پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری ہمارے عوام کے لئے بڑی امید ہے کہ ہماری باہمی معیشتوں کی ترقی کے ذریعے امن اور ترقی حاصل ہوگی۔