اسلام آباد۔13اکتوبر (اے پی پی):اکادمی ادیبات کی صدر نشین ڈاکٹر نجیبہ عارف نے کہا ہے کہ ہماری ثقافت کو سب سے زیادہ نقصان نوآبادیاتی نظام نے پہنچایا، ثقافت ہماری پہچان ہوتی ہے، قدیم اور جدید ثقافت میں سے ہمیں جو چیز بہتر لگے اسے اپنا لیا جائے۔ جمعہ کو انفارمیشن سروسز اکیڈمی میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک زمانہ تھا کہ اپنے آپ کو مارڈرن اور مہذب ظاہر کرنے کے لئے ہم اپنی ثقافت کو چھپانے کو کوشش کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ثقافت ہماری پہچان ہوتی ہے، ثقافت وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتی رہتی ہے لیکن اس کی جڑیں قائم رہتی ہیں، ثقافت ایک درخت مانند ہوتی ہے، درخت کے پتے اور شاخیں ہر سال تبدیل ہوتے ہیں لیکن وہ جڑوں سے قائم رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری ثقافت کو سب سے زیادہ نقصان نوآبادیاتی نظام نے پہنچایا، اگر ہم اپنی ثقافت سے جڑے رہتے تو آج ہمارے بچے ہم سے سوال نہ کرتے اور نہ ہی ہمارے درمیان کوئی اختلاف ہوتا۔ ڈاکٹر نجیبہ عارف نے کہا کہ قدیم اور جدید ثقافت دو راہیں ہیں اور ہم ان دو راہوں پر چلنے کی کوشش کرتے ہیں اور ہمیں چاہئے کہ جس کی جو چیز بہتر لگے اسے اپنا لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دنیا ایک منڈی ہے اور اس منڈی میں ہر اس چیز کی قدر ہوتی ہے جو بک سکے اور ہم اپنے آپ کو اس منڈی میں بہتر قیمت لگنے کیلئے تیار کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں ہم ایک ڈسپوزیبل کلچر کی طرف جا رہے ہیں جو کہ انتہائی خطرناک ہے، ہمیں اپنی ثقافت سے جڑا رہنا چاہئے اسی میں ہماری بقاء ہے، آپس میں مکالمے کا ماحول پیدا کریں۔ لوک ورثہ کے سابق ڈائریکٹر جنرل، مصنف، ادیب عکسی مفتی نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ثقافت کے لحاظ سے تضادات کا شکار ہے، یہاں علاقائی ثقافتیں ہر چند کلومیٹر کے بعد تبدیل ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے اوپر اس وقت ففتھ جنریشن وار کی یلغار ہے، یہ دو عمارتیں بچانے کا نہیں بلکہ اپنے ذہنوں کو بچانے کا ہے، ہمارے دشمن ہماری ثقافت اور اقدار پر گہرے وار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومتیں معیشت کا راگ الاپ رہی ہیں لیکن جب تک معیشت کو ثقافت سے نہیں ملائیں گے مسائل حل نہیں ہوں گے، ہم اپنا راستہ چھوڑ کر دوسروں کے راستے پر چل پڑے ہیں یہ تباہی کا راستہ ہے۔ سیمینار کی صدارت ڈاکٹر سعدیہ کمال نے کی جبکہ معروف شاعرہ، ادیب ڈاکٹر صنوبر الطاف، ریحانہ شیخ اور ڈاکٹر روشن ندیم نے بھی سیمینار سے خطاب کیا۔











