یونیورسٹی پروفیسرز کو کنسلٹنٹ کے طور پر کام کرنے کی اجازت ملنی چاہیے؛تعلیمی ماہرین

21

ٹنڈوجام ،19 اکتوبر(اے پی پی): تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی پروفیسرز کو کنسلٹنٹ کے طور پر کام کرنے کی اجازت ملنی چاہیے، ریٹائرڈ پروفیسرز اپنی شاندار خدمات کی وجہ سے کئی ملکی و عالمی اداروں کی کامیابی کا سبب بنے ہوئے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو یہاں سندھ زرعی یونیورسٹی میں پاکستان انجینئرنگ کونسل کی جانب سے کامیاب آئیڈیاز کے ایگریکلچرل انجنیئرز کو مالی معاونت کے چیک تقسیم کرنے کیلئے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

 سندھ زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر فتح مری نے کہا کہ زرعی انجنیئرز فوڈ سیکیورٹی، آبپاشی، زمین کی تیاری، زرعی مشینری سمیت مختلف آئیڈیاز پر بہتر کام کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی پروفیسرز کو دوران سروس کنسلٹنٹ کے طور پر تسلیم کیا جائے، وہ ملکی و بیرونی اداروں کیلئے بہتر نتائج دیں سکتے ہیں، اور ان کے تجربات طلباء کی عملی زندگی کیلئے مفید ہونگے۔

 چیئرمین پاکستان انجنیئرنگ کائونسل کے ایڈوائزر انجنیئر میر مسعود راشد نے کہا کہ ملک میں انجنیئرز معیار و تعداد کی بنیاد پر کم ہو رہے ہیں، اس لئے ہمیں اسکول سطح پر جاکر سائنس اور ٹیکنالوجی کے متعلق اپنے آنے والی نسلوں کو آگاہی دینی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ  ایگریکلچرل انجنیئرز نئے منصوبے تیار کریں، پی ای سی مالی معاونت کرے گی۔

 پی ای سی کی ممبر انجنیئر محفوظ عرسانی نے کہا کہ گلوبلائزیشن کی وجہ سے دنیا میں بہت بڑا کامپٹیشن ہو رہا ہے، ترقی یافتہ ممالک عالمی سطح پر منصوبوں کیلئے گرانٹ دیتے ہیں، اور ہمارے نوجوانوں کیلئے بیرون ممالک بڑے مواقع موجود ہیں، پڑوسی ملک کے نوجوان بیرون ملک میں بہت بڑی کامپٹیشن کا حصہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نوجوانوں کی معاونت کیلئے سندھ زرعی یونیورسٹی میں پی ای سی کی ڈیسک قائم کریں گے۔

ایگریکلچرل انجنئیرنگ فیکلٹی کی ڈین ڈاکٹر الطاف سیال نے ایگریکلچرل انجنیئرز کی جانب سے تیار کئے گئے پروجیکٹس کے متعلق بریفنگ دی اور کہا کہ ایگریکلچرل انجنیئرز کی ڈگری کو اہمیت دینی چاہئے اور ان کی قابلیت سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

 تقریب سے  اسریٰ یونیورسٹی حیدرآباد کے پروفیسر ڈاکٹر حسن علی خان درانی اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر کامیاب پروجیکٹس کے اسٹارٹ اپ کیلئے تین طلباء کو پی ای سی کی جانب سے مالی معاونت کے طور پر چیک دیئے گئے۔