لاہور،14دسمبر (اے پی پی):خاتون اول بیگم ثمینہ عارف علوی نے کہا ہے کہ جلد تشخیص کے ذریعے بریسٹ کینسر سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے،بریسٹ کینسر بارے معاشرے میں جتنی آگاہی پھیلائیں گے اتنا ہی خواتین کو اس خطرناک بیماری سے بچا پائیں گے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو یہاں گورنر ہاؤس میں بریسٹ کینسرسے بچاؤ کے آگاہی سیمینار سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ سیمینار کا انعقاد یونیورسٹی آف لاہور اور عالمی ادارہ صحت کے اشتراک سے کیا گیا۔
خاتون اول ثمینہ عارف علوی نے انتہائی اہم موضوع پر آگاہی سیمینار کے انعقاد پریونیورسٹی آف لاہور اور عالمی ادارہ صحت کی کاوشوں کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہر 9خواتین میں سے ایک خاتون بریسٹ کینسر کا شکار ہے، جلد تشخیص کے ذریعے اس بیماری پر قابو پایا جا سکتا ہے،ہمارے تعلیمی اداروں میں بریسٹ کینسر بارے آگاہی سیمینارز کا انعقاد ہونا چاہیے۔ یہاں بیٹھے ہر شخص کی اپنے حلقہ احباب میں بریسٹ کینسر بارے آگاہی پھیلانا ذمہ داری ہے۔
بیگم ثمینہ عارف علوی نے کہا کہ دنیا بھر میں خواتین کی اموات میں بریسٹ کینسر بہت بڑی وجہ ہے،بچے کی صحت کیلئے ہر ماں کو پیدائش کے بعد دو سال تک اپنا دودھ پلانا چاہئے،بچے کو دودھ پلانے والی ماں کو کبھی بریسٹ کینسر نہیں ہو سکتا۔انہوں نے کہا کہ چالیس فیصدخواتین ہر سال بریسٹ کینسر بارے آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں جبکہ دنیا کے دیگر ممالک میں نوے فیصد سے زیادہ خواتیں اس بیاری سے صحت یاب ہو رہی ہیں ، ہمیں اس بارے میں سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے۔
خاتون اول نے کہا کہ تاخیر سے تشخیص ہونے سے بچنے کے چانسز کم ہو جاتے ہیں اس کیلئے ضروری ہے کہ خواتین ہر ماہ باقاعدگی سے اپنا معائنہ خود کیا کریں،اگر وہ اپنے جسم میں کوئی تبدلی محسوس کریں توفوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں ، اپنی فیملی کو اعتماد میں لیں ، اس میں شرم کی کوئی بات نہیں ہے ۔
سیمینارسے بیگم گورنر پنجاب عائشہ بلیغ الرحمان، وزیر صحت پنجاب پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم اور دیگر ڈاکٹرز نے بھی خطاب کیا۔











