مظفر آباد،5فروری (اے پی پی):نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کشمیریوں کی ان کے حق خودارادیت کیلئے جدوجہد کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے پاکستان کی حمایت کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت اقوام متحدہ کی قراردادوں اور جموں و کشمیر کے عوام کی خواہشات کے برخلاف کوئی حتمی حل مسلط نہیں کر سکتا،کشمیر میں بھارت جو کچھ کر رہا ہے وہ کسی انسانی المیے سے کم نہیں،انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور خونریزی پر بھارت کو جوابدہ ہونا چاہیے اور عالمی برادری کو اس بربریت کا نوٹس لینا چاہیے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ ہر سال 5 فروری کو پاکستان کی حکومت اور عوام یوم یکجہتی کشمیر مناتے ہیں یہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کا دن ہے۔ ہر سال ہم جموں و کشمیر کے بھائیوں کے ساتھ جابرانہ غیرملکی قبضہ کے خلاف ان کی حق خودارادیت کیلئے جائز جدوجہد میں شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا عہد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا۔ کشمیر کے بغیر پاکستان نامکمل ہے۔ پاکستانی اور کشمیری اٹوٹ رشتوں میں بندھے ہیں، ہمارے خوشی اور غمی کے تہوار ایک ہیں۔ جموں و کشمیر میں جو ہو رہا ہے اس سے الگ نہیں رہ سکتے، ہم جموں و کشمیر تنازعہ کے اہم فریق ہیں۔
نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ بھارت جموں و کشمیر کے عوام کی خواہشات کے برخلاف کوئی حتمی حل مسلط نہیں کر سکتا۔ کشمیر کاز کیلئے ہمارا عزم پختہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنازعہ کشمیر پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں ہمیشہ شامل رہا ہے جو ایک غیرمتزلزل اتفاق رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ ہمارے معاشرے کے تمام طبقات اور قومی ادارے کشمیریوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہیں اور پوری دنیا میں کشمیریوں کیلئے آواز بلند کر رہے ہیں ہم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کے حل کیلئے اپنی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھیں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت پاکستان نے متعلقہ عالمی فورمز پر ہمیشہ کشمیریوں کی حمایت کی ہے۔ پاکستان کے اس غیرمتزلزل عزم میں ملک کے چوتھائی ارب لوگوں کی مرضی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے ہزاروں مردوں، خواتین اور بچوں کی قربانیوں کو یاد کر رہے ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ کشمیریوں نے حق خودارادیت کیلئے بڑی بھاری قیمت ادا کی۔ بھارتی جبروبربریت کے خلاف کشمیری لہولہان ہو گئے لیکن جھکے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم اکثریتی ریاست ہونے کے ناطے کشمیر کو پاکستان کا حصہ ہونا چاہیے تھا لیکن ایسا نہ ہو سکا۔
نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ کشمیری عوام کی امنگوں کو دھوکہ دہی اور سازشوں کے ذریعے پامال کیا گیا۔ انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ کشمیری عوام کے زخم آج بھی تازہ ہیں۔ آزاد جموں و کشمیر بڑی قربانیوں اور جدوجہد سے آزاد ہوا۔1947ء میں خطے میں قتل عام کی یادیں ہمارے ذہنوں سے مٹ نہیں پائیں۔ کشمیریوں کو پاکستان کی بے پناہ حمایت کا یقین دلانا ان کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے پرعزم ہیں۔ ان کی ترقی اور خوشحالی کی جستجو میں ان کی مدد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت خود تنازعہ جموں و کشمیر کو اقوام متحدہ میں لے گیا اور خطے کی متنازعہ حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے اقوام متحدہ نے فیصلہ کیا کہ تنازعہ کشمیر کا حتمی فیصلہ اقوام متحدہ کی زیرسرپرستی آزادانہ اور غیرجانبدارانہ استصواب رائے کے جمہوری طریقے سے کیا جائے گا تاہم اب تک کشمیریوں کو اپنا حق استعمال کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ بھارت کو استصواب رائے کے حوالے سے پاکستان اور سب سے بڑھ کر کشمیری عوام کے ساتھ اپنے پختہ وعدوں پر عمل کرنا چاہیے۔ اس کے بغیر بھارت کے جمہوری ہونے کے دعوے کھوکھلے ہیں۔ بھارت کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں کبھی متروک نہیں ہوتیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ ہندوستانی قیادت کشمیر پر بھارتی قبضہ کو برقرار رکھنے کیلئے روایتی ہٹ دھرمی جاری رکھے ہوئے ہے۔ بھارتی قیادت معصوم کشمیریوں کے خلاف اپنے جانبدارانہ اقدامات کیلئے ہر قسم کے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔ بی جے پی اور آر ایس ایس کا یہ اتحاد بلاوجہ کشمیریوں کو تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے۔ ہندوتوا کے زہریلے نظریہ نے کشمیریوں پر اتنا ظلم ڈھایا ہے جتنا پہلے کبھی نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے غیرقانونی زیرقبضہ جموں و کشمیر کھلی جیل سے مشابہت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری خوف و ہراس کے ماحول میں جی رہے ہیں، میڈیا پر پابندیاں ہیں، کارکن جیلوں میں بند ہیں، ان کی زمینیں ضبط کی جا رہی ہیں، ثقافت پر حملہ ہو رہا ہے، حراستیں، تشدد اور ماورائے عدالت قتل ہو رہے ہیں۔ آزادی پسند کشمیریوں کی جائیدادیں ہتھیائی جا رہی ہیں۔ گزشتہ 45سالوں میں 96ہزار سے زائد کشمیری شہید ہو چکے ہیں، ہزاروں خواتین کو ہراساں کیا گیا ہے۔
نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ ان تمام مظالم کا خاتمہ ہونا چاہیے۔عالمی برادری کو ان زیادتیوں کے مرتکب افراد کا محاسبہ کرنا چاہیے۔ فلسطین کے حالیہ واقعات کے بعد دنیا کے امن پسند افراد کا ضمیر زندہ ہو گیا ہے۔ دنیا کو باور کراتے ہیں کہ کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ کسی انسانی المیے سے کم نہیں، دہائیوں کی بھارتی بربریت کے ثبوت موجود ہیں۔ عالمی برادری کو بیدار ہونا چاہیے اور اس بربریت کا نوٹس لینا چاہیے۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی ان خلاف ورزیوں اور خونریزی پر بھارت کو جوابدہ ہونا چاہیے۔
نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ بھارت نے جموں و کشمیر پر اپنے ناجائز قبضہ کو مضبوط کرنے کے لئے مختلف حربے آزمائے ہیں۔5اگست 2019ء سے کشمیریوں کو اپنی سرزمین سے بے گھر کرنے کیلئے مہم زوروں پر ہے۔ اس دن بھارت نے اپنے غیرقانونی زیرتسلط جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی۔ اس کے بعد بھارتی اور سیاسی خدوخال کو تبدیل کرنے کیلئے متعدد اقدامات کیے، ان میں انتخابی حلقوں میں ووٹرز فہرستوں میں غیرکشمیریوں کو شامل کرنے کی اجازت دینا کشمیر کے باہر سے لوگوں کو ڈومیسائل، جائیداد اور ملکیت سے متعلق نئے قوانین شامل ہیں۔ یہ کارروائیاں بین الاقوامی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہیں جس میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں، اقوام متحدہ کے چارٹر، انسانی حقوق اور جنیوا کنونشن کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کے غیرقانونی زیرتسلط جموں و کشمیر کی حیثیت سے متعلق بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ کشمیری عوام کے حق خودارادیت سے انکار کی جانب تازہ ترین قدم ہے ایسے فیصلوں کے ذریعے کشمیری عوام کی امنگوں کو مجروح نہیں کیا جا سکتا اور اس کا کوئی جواز نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں نے اس فیصلے کو مسترد کر دیا۔ تنازعہ کشمیر کی حیثیت کو ہمیشہ عالمی قانون کے تناظر میں بیان کیا گیا ہے۔ بین الاقوامی قانون کے تحت کسی بھی عمل کو جو بھارتی قانون کے تابع ہے جموں و کشمیر کو حتمی حیثیت کا تعین کرنے کیلئے استعمال نہیں کیا جا سکتا جو بین الاقوامی سطح پر ایک تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے۔ ملکی قانون سازی اور فیصلے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں سے عملدرآمد سے متعلق بھارت کو اپنی ذمہ داریوں سے بری نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی سال سے بھارت جعلی بیانیے پیش کر رہا ہے۔ کشمیریوں کی مقامی جدوجہد آزادی کو دہشتگردی کا غلط لیبل لگا کر کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ کشمیری اپنے حقوق کے حصول کیلئے بہادری کے ساتھ کھڑے ہیں۔











