اسلام آباد،22 مارچ(اے پی پی):علامہ اقبال کا خواب، قائد اعظم کی متحرک قیادت، مسلمانوں کا جوش اور آزادی کی لگن، 1940 میں 23 مارچ کا دن مسلمانوں کے علیحدہ وطن کی امنگوں کی نمائندگی کرنے والی قرارداد کی صورت میں ظاہر ہوا۔ آل انڈیا مسلم لیگ نے لاہور کے منٹو پارک میں منعقد ہونے والے اپنے اجلاس میں قراداد پاکستان متفقہ طور پر منظور کی،قرارداد پاکستان کی منظوری کے بعد مسلمانانِ برصغیر نے 7 سال کے قلیل مدت میں وطن عزیر کے حصول میں کومیابی حاصل کی اور اقبال کے خواب کو حقیقت میں بدلا۔
اس کامیابی کے پس منظر میں وہ دو قومی نظریہ کار فرما تھا جس کے نقوش 1857 کی جنگ آزادی سے لے کر 1883ء میں امپیریل کونسل میں انتخابی قانون کی منظوری،گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935ء کے تحت ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں کانگرس کی بنائی گئی حکومت اور اس کیبعد کے حالات تھے جس دوران مسلمانوں کو سیاسی ، ثقافتی ، کاروباری اور ہر قسم کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔
23مارچ ہماری قومی تاریخ کا ایسا عہد ساز دن ہے جو ہمیں اپنے ماضی کی یاد دلاتا ہے، اور ایک خوشحال مستقبل کی تعمیر کی تحریک دیتا ہے۔آزادی کیبعد سے لے کر ابتک یہ دن انتہائی ملی جوش و جذبے کیساتھ منایا جاتا ہے،دن کے آغاز میں نماز فجر کے بعد مملکت خداداد کی سلامتی کیلئے دعائیں مانگی جاتی ہیں ، وفاقی دارالحکومت میں31جبکہ صوبائی دارالحکومتوں میں اکیس اکیس توپوں کی سلامی دی جاتی ہے۔ملک بھر میں عام تعطیل ہوتی ہے اور تمام سرکاری و نجی عمارتوں پر قومی پرچم لہرائے جاتے اور برقی قمقموں سے چراغاں کیا جاتا، ریلیاں نکالی جاتی ہیں اور سیمینارز منعقد کیے جاتے ہیں۔
یوم پاکستان کی مناسبت سے سرکاری و نجی ٹی وی اور ریڈیو چینلز سے خصوصی دستاویزی پروگرام نشر کیے جاتے ہیں جس میں یوم پاکستان کی اہمیت سے نئی نسل کو روشناس کرایا جاتا ہے۔
کراچی میں بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح اورلاہورمیں شاعر مشرق علامہ اقبال کے مزار پر گارڈز کی تبدیلی کی تقریبات کیساتھ ساتھ، یوم پاکستان کے موقع پر شکرپڑیاں گراؤنڈ اسلام آباد میں مسلح افواج کی شاندار پریڈ ،ہماری آزادی ، ترقی، خوشحالی و ہمیشہ سلامتی کی خوبصورت منظر کشی کرتی ہے۔
یوم پاکستان پر پاکستان کی خدمت کے اعتراف میں اپنے اپنے شعبوں میں شاندار کارکردگی دیکھانے والوں کو سول ایوارڈز سے بھی نوازا جاتا ہے۔











