احسن اقبال کی زیر صدارت چینی سرمایہ کاری کے منصوبوں پر کابینہ کمیٹی کا پہلا  اجلاس

27

اسلام آباد،اپریل 30 (اے پی پی):چینی سرمایہ کاری کے منصوبوں پر کابینہ کمیٹی کا پہلا اجلاس منگل کو وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیر صدارت منعقد ہوا۔   اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے  وفاقی وزیر منصوبہ بندی  کی جانب سے سی پیک توانائی منصوبوں کے ضمن میں خود آئی پی پیز کی طرف واجب الادا رقوم جلد جمع کرانے کی ہدایت جاری کیں گئیں جبکہ اجلاس میں رشکئی خصوصی اقتصادی زون کو سستی  بجلی کی فراہمی پر تبادلہ خیال بھی کیا۔ رشکئی سپیشل اکنامک زون کی جانب سے بجلی کی تقسیم اور فراہمی کے لیے نیپرا کے لائسنس کے لیے درخواست جمع کروا دی گئی۔

 وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ خصوصی اقتصادی زونز میں سستی بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے  بھرپور اقدامات اٹھائے جائیں۔ جبکہ ان کا مزید کہنا تھا کہ علاقائی مسابقت میں مؤثر کردار ادا کرنے کے لئے چینی اور دیگر ممالک سے ہونے والی سرمایہ کاری کے لیے موجودہ مراعات پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی کی جانب سے بورڈ آف انویسٹمنٹ کو بنگلہ دیش، ہندوستان، ویتنام، کمبوڈیا اور تھائی لینڈ میں قائم  خصوصی اقتصادی زونز کا تحقیقاتی مطالعہ کرنے کئی ہدایت بھی جاری کیں۔ جبکہ انہوں نے ان ممالک کی جانب سے غیر ملکی سرمایہ کار کمپنیوں کو دی جانے والی سہولیات اور مراعات کا جائزہ لینے اور ان کے کامیاب تجربات سے سیکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

وفاقی وزیر نے وزارت تجارت کو ایکسپورٹ پروسیسنگ گروپس کی استعداد کار بڑھانے کے لئے  خصوصی تحقیقی مطالعہ کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ جبکہ انہوں مزید کہا کہ وزارت تجارت پاکستان کی برآمدات کو 30 ارب ڈالر سے 100ارب ڈالر تک پہنچانے کے لیے منصوبہ عمل بنائے۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ہماری قومی سلامتی اور پائیدار اقتصادی ترقی کا مستقبل برآمدات میں اضافے سے جڑا ہے، جبکہ جدید صنعتی ترقی کے عالمی ماڈل میں برآمداتی شرح نمو کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ نجی کمپنیاں ہر سال اربوں روپے کماتی ہیں لیکن ان کی بیلنس شیٹ کے اعداد و شمار ملکی اقتصادی ترقی خاطر خواہ مددگار ثابت نہیں ہوتے۔

 وفاقی وزیر منصوبہ بندی کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے ہاں نجی کمپنیاں اور کاروباری ادارے محض اپنے فائدے کے لیے لابنگ کرتے نظر آتے ہیں۔