وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال کی پریس کانفرنس

36

اسلام آباد۔8مئی  (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ حکومت نے آئندہ مالی سال کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں صرف ان ترقیاتی منصوبوں کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو “اڑان پاکستان پروگرام” سے ہم آہنگ ہوں گے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی سخت جانچ پڑتال کا عمل شروع کیا گیا ہے تاکہ قومی وسائل کا استعمال صرف ان منصوبوں پر کیا جا سکے جو روزگار کے مواقع پیدا کریں، پائیدار معاشی ترقی کو فروغ دیں اور سماجی خوشحالی کا باعث بنیں۔انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت اور قومی وسائل کے منصفانہ استعمال کو یقینی بنانے کے لیے منصوبہ بندی کی وزارت میں ایک ہاٹ لائن اور موثر مانیٹرنگ و ایوالویشن یونٹ قائم کیا گیا ہے جس کا مقصد وسائل کے ضیاع کو روکنا اور منصوبوں کی نگرانی کو بہتر بنانا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ موثر روابط قائم کیے گئے ہیں اور ان کے ساتھ حکومت کی ترقیاتی ترجیحات شیئر کی گئی ہیں تاکہ ان اہداف کو مشترکہ طور پر حاصل کیا جا سکے۔

احسن اقبال نے مزید کہا کہ “اڑان پاکستان پروگرام” کو صوبوں کے ساتھ بھی مربوط کیا جا رہا ہے اور اس ضمن میں مختلف ورکشاپس کا انعقاد کیا گیا ہے تاکہ قومی وسائل کا درست استعمال یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے موجودہ مالی سال کی 10 ماہ کی معاشی کامیابیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ سال معاشی بحالی کا سال ہے۔ مہنگائی 38 فیصد سے کم ہو کر 2.5 فیصد پر آ گئی ہے اور اپریل 2025 کے مہینے میں ہیڈ لائن انفلیشن صرف 0.3 فیصد رہی۔انہوں نے بتایا کہ جاری مالی سال کے دوران کرنٹ اکائونٹ سرپلس 1.86 ارب ڈالر رہا جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں 1.65 ارب ڈالر کا خسارہ تھا۔ ترسیلات زر میں 33 فیصد اضافہ ہوا ہے اور وہ 33 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مالی خسارہ بھی 3.1 فیصد سے کم ہو کر 2.2 فیصد ہو گیا ہے جبکہ رواں مالی سال کے ابتدائی 10 ماہ میں محصولات کی وصولی میں 26 فیصد اضافہ ہوا، جو ایک تاریخی سنگ میل ہے۔ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ قومی ترقیاتی منصوبوں کے لیے وسائل پیدا کرنے کے لیے ٹیکس اصلاحات ناگزیر ہیں۔

احسن اقبال نے بتایا کہ رواں مالی سال کے دوران اب تک 900 ارب روپے کے ترقیاتی اخراجات کی منظوری دی جا چکی ہے اور توقع ہے کہ سال کے اختتام تک باقی فنڈز بھی استعمال ہو جائیں گے۔

مزید برآں وفاقی وزیر نے بھارتی جارحیت  کی شدید مذمت کی اور پاکستان آرمی کی جانب سے بھرپور اور فوری جوابی کارروائی کو سراہا جس میں بھارتی فضائیہ کے پانچ جنگی طیارے جن میں تین رافیل بھی شامل تھے، مار گرائے گئے۔پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ عالمی برادری نے پاکستان کی روایتی جنگی صلاحیت کو تسلیم کیا ہے، جو خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے نہایت اہم ہے۔