اسلام آباد، 19 جون )اے پی پی ):رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ امیر سلطان نے جمعرات کو قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس 2025-26 کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور زراعت ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس شعبے کو مزید سہارا دینے اور کسانوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ بہتر پیداوار دے سکیں اور ملکی معیشت کو مضبوط بنایا جا سکے۔
انہوں نے کسانوں کے لیے ریلیف اقدامات پر زور دیتے ہوئے تجویز دی کہ سولر سسٹمز پر عائد ٹیکس کو واپس لیا جائے تاکہ توانائی کے متبادل ذرائع کسانوں کے لیے قابلِ رسائی بن سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسان کو مضبوط کیے بغیر ملک کی معیشت کو پائیدار ترقی نہیں دی جا سکتی۔
ماحولیاتی تبدیلی کے موضوع پر بات کرتے ہوئے صاحبزادہ امیر سلطان نے کہا کہ کلائمٹ چینج اس وقت دنیا کا ایک بڑا اور سنگین مسئلہ ہے، جسے سنجیدگی سے لینے اور اس کے اثرات سے نمٹنے کے لیے جامع پالیسیوں کی ضرورت ہے۔
خطاب کے اختتام پر انہوں نے ایران اور فلسطین میں جاری جارحیت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے ان مظلوم عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے خلاف جاری جارحانہ کارروائیوں کی بھرپور مذمت کی۔











