ممبر قومی اسمبلی شائستہ پرویز کا بجٹ اجلاس 2025-26 میں اظہار خیال: تعلیم، صحت، اور فنی تربیت کے لیے وسائل بڑھانے کی تجویز

19

اسلام آباد، 19 جون (اے پی پی ):رکن قومی اسمبلی شائستہ پرویز نے جمعرات کو قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس 2025-26 کے موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف اور ان کی ٹیم کو ایک مثالی بجٹ پیش کرنے پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے افواجِ پاکستان کی قربانیوں اور بھارت کی حالیہ جارحیت کے دوران ان کی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قائدانہ صلاحیتوں کی تعریف کی۔ ان کا کہنا تھا کہ افواجِ پاکستان نے قوم کا سر فخر سے بلند کیا ہے۔

شائستہ پرویز نے کہا کہ موجودہ قیادت نے ملک کو معاشی ترقی کی راہ پر گامزن کیا ہے اور ہر نیا بجٹ سابقہ بجٹ سے بہتر ثابت ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش رہی ہے کہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جائے۔

تعلیم کے شعبے سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ بجٹ میں تعلیم کے لیے 93 بلین روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ ہائر ایجوکیشن کے لیے بھی رقم مختص کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیم سب سے زیادہ اہم مسئلہ ہے اور اس کے ساتھ ساتھ فنی تعلیم، ریسرچ اور بیج بیسڈ انسٹیٹیوشنز پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ کوانٹیٹیٹو کے بجائے کوالیٹیٹو ایجوکیشن پر زور دیا جائے اور اس مقصد کے لیے مزید وسائل فراہم کیے جائیں کیونکہ ریسرچ ملک کی ترقی کا ایک اہم جزو ہے۔

انہوں نے کہا کہ برین ڈرین کو روکنے کے لیے بھی خصوصی اقدامات کی ضرورت ہے، جبکہ فنی تعلیم کے فروغ کے لیے بجٹ میں خاص حصہ مختص کیا جانا چاہیے۔ صحت کے شعبے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پروسیسڈ فوڈ مختلف بیماریوں جیسے دل کے امراض، بلڈ پریشر اور ذیابیطس کی بڑی وجہ ہے، اس لیے ان پر ٹیکس میں اضافہ کیا جانا چاہیے۔

شائستہ پرویز نے کہا کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی مختلف معاشی و سماجی مسائل کا باعث بن رہی ہے، اور اس آبادی کو کارآمد انسانی وسائل میں تبدیل کرنے کے لیے وکیشنل ٹریننگ اور اسکل ڈیولپمنٹ کو فروغ دینا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بصورت دیگر یہ آبادی ملک پر بوجھ بن سکتی ہے۔