اسلام آباد،10 جولائی(اے پی پی ): وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی خالد حسین مگسی نے کہا کہ بایوٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کو فروغ دینے کے لیے امپورٹ پر انحصار کم کرنے کی ضرورت ہے، اس مقصد کے لیے فارما انڈسٹری کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے APIs (Active Pharmaceutical Ingredients) کی مقامی سطح پر تیاری سمیت مختلف امکانات پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ مقامی پیداوار کو مستحکم کیا جا سکے اور ملکی وسائل کا بہتر استعمال ممکن ہو۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو یہاں اسلام آباد میں فارما انڈسٹری کے اسٹیک ہولڈرز سے اہم ملاقات میں کیا۔ اس ملاقات کا مقصد مقامی فارماسیوٹیکل انڈسٹری کو درپیش چیلنجز اور مواقع کا جائزہ لینا اور انہیں حکومتی تعاون کی فراہمی سے متعلق اقدامات پر غور کرنا تھا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان نے واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ ملکی فارما کمپنیوں کے ساتھ اشتراک کو فروغ دیا جائے تاکہ اس اہم شعبے کو خودکفالت کی جانب گامزن کیا جا سکے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق وزارت سائنس و ٹیکنالوجی فارما انڈسٹری کو مقامی سطح پر مستحکم کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں وزارت نے متعلقہ اداروں کو بھرپور تعاون کی ہدایات دی ہیں تاکہ مقامی کمپنیوں کو درکار ٹیکنیکل، ریسرچ، اور پیداواری معاونت فراہم کی جا سکے۔
خالد حسین مگسی نے کہا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ملک میں کمپیوٹر کنٹرولڈ فرمنٹرز کی تیاری اور ان کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ بایو کیمیکلز، بایو فارماسیوٹیکلز اور بایو پروٹینز کی تیاری کے لیے تحقیق و ترقی کے ڈھانچے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات فارما انڈسٹری کی خودمختاری اور معیار کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔
انہوں نے بتایا کہ PCSIR کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مقامی فارما کمپنیوں سے فوری طور پر رابطہ کرے۔ اس اقدام کا مقصد انڈسٹری اور حکومت کے درمیان براہِ راست رابطہ قائم کرنا اور مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے ملکی فارما سیکٹر کو عالمی معیار تک پہنچانا ہے۔











