وفاقی وزیر تجارت جام کمال سے سام سنگ وفد ملاقات، موبائل فون مینوفیکچرنگ پر غور

3

اسلام آباد،22 جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے سام سنگ کے ایک وفد نے ملاقات کی، جس میں پاکستان میں موبائل فون مینوفیکچرنگ، برآمدات، سرمایہ کاری اور ریفربشمنٹ انڈسٹری کے فروغ سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران وفاقی وزیر تجارت نے سام سنگ کو پاکستان میں تیار ہونے والے موبائل فونز افریقہ سمیت عالمی منڈیوں میں برآمد کرنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان کو موبائل فون مینوفیکچرنگ اور ایکسپورٹ ہب بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت برآمدات، ویلیو ایڈیشن اور صنعتی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی اور پاکستان کو صرف مقامی مارکیٹ نہیں بلکہ عالمی سپلائی چین کا اہم حصہ بننا ہوگا۔

جام کمال خان نے سام سنگ کی جانب سے پاکستان میں سرٹیفائیڈ موبائل فون ریفربشمنٹ مراکز قائم کرنے کی تجویز کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ریفربشمنٹ انڈسٹری سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، ٹیکنالوجی کی منتقلی کو فروغ ملے گا اور برآمدی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔

سام سنگ کے وفد نے مقامی موبائل مینوفیکچرنگ سے متعلق ٹیکس اور ٹیرف ڈھانچے پر اپنے خدشات سے آگاہ کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ استعمال شدہ موبائل فونز کی کمرشل درآمد مقامی صنعت کو متاثر کر رہی ہے۔ وفد نے استعمال شدہ فونز کی درآمد کے بجائے پاکستان میں سرٹیفائیڈ ریفربشمنٹ ماڈل متعارف کرانے کی تجویز بھی پیش کی۔

وفاقی وزیر تجارت نے کہا کہ موبائل صنعت کی آئندہ پالیسی حقیقی مینوفیکچرنگ، ویلیو ایڈیشن، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور برآمدات پر مرکوز ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری، لوکلائزیشن، برآمدات اور ویلیو ایڈیشن سے منسلک مراعات کا جائزہ لیا جائے گا، جبکہ صنعت ریفربشمنٹ، برآمدی صلاحیت، سرمایہ کاری اور عالمی بہترین طریقہ کار سے متعلق تفصیلی تجاویز پیش کرے۔

جام کمال خان نے مزید کہا کہ استعمال شدہ موبائل فونز کی درآمد سے متعلق فیصلے شواہد، مرحلہ وار حکمت عملی اور صارفین کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جائیں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے ایک پرکشش سرمایہ کاری کی منزل ہے اور سام سنگ سمیت عالمی کمپنیوں کے ساتھ تعاون سے سرمایہ کاری، روزگار اور برآمدات میں مزید اضافہ ہوگا۔