اسلام آباد، 16 جولائی (اے پی پی): اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ (آئی پی آر آئی) نے بدھ کو “پاکستان میں سیاسی پولرائزیشن پر سوشل میڈیا کے اثرات” کے عنوان سے تحقیقی رپورٹ جاری کی، جس میں سوشل میڈیا کے بڑھتے استعمال کو سیاسی تقسیم میں شدت کی وجہ قرار دیا گیا۔
تقریب میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، ماہرین، محققین اور پالیسی سازوں نے شرکت کی۔ رپورٹ میں فیس بک، ایکس (ٹوئٹر)، ٹک ٹاک، یوٹیوب، انسٹاگرام اور واٹس ایپ جیسے پلیٹ فارمز کے سیاسی بیانیے پر اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔
عطا اللہ تارڑ نے گفتگو میں کہا ہے کہ موجودہ سیاسی دور میں سوشل ایشوز پر توجہ اور ان کے حل کے لیے ڈیجیٹل میڈیا کا مؤثر اور ذمہ دارانہ استعمال ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے جو سماجی مسائل کو ترجیح دے اور انہیں ڈیجیٹل فورمز کے ذریعے اجاگر کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانیت اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے سوشل میڈیا کو تقسیم کے بجائے مکالمے کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔
تحقیق کے مطابق 2017 سے 2025 تک سوشل میڈیا صارفین کی تعداد 3 کروڑ 10 لاکھ سے بڑھ کر 6 کروڑ 69 لاکھ ہو گئی۔ مطالعے میں زور دیا گیا کہ سوشل میڈیا پولرائزیشن پیدا نہیں کرتا بلکہ اسے بڑھاوا دیتا ہے۔
رپورٹ میں سفارش کی گئی کہ نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی شامل کی جائے، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو جواب دہ بنایا جائے، جھوٹی معلومات کے خلاف اقدامات کیے جائیں اور مقامی پلیٹ فارم متعارف کروائے جائیں۔
صدر آئی پی آر آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) مجید احسان نے کہا کہ سوشل میڈیا سیاسی رویوں اور تقسیم پر گہرے اثرات ڈال رہا ہے، جب کہ تحقیق کے سربراہ بریگیڈیئر (ر) ڈاکٹر راشد ولی نے بتایا کہ فیس بک اور انسٹاگرام پر “لائک” اور “شیئر” بٹن کے بعد دنیا بھر میں منفی سماجی رجحانات میں اضافہ ہوا۔











