وزیرِاعظم کے معاونِ خصوصی ہارون اختر خان کی سیالکوٹ چیمبر اور برآمدی ایسوسی ایشنز سے اہم ملاقات

21

اسلام آباد، 21جولائی(اے پی پی):سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری، پاکستان ریڈی میڈ گارمنٹس مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (PRGMEA)، اور پاکستان ہوزری مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (PHMA) کے نمائندہ اعلیٰ سطحی وفد نے آج اسلام آباد میں وزیرِاعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار،  ہارون اختر خان سے ملاقات کی۔

ملاقات میں فکسڈ ٹیکس ریجیم بمقابلہ نارمل ٹیکس ریجیم، صنعتی پالیسی، اور کاروبار میں آسانی جیسے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔سیالکوٹ چیمبر نے زور دیا کہ دہائیوں سے فکسڈ ٹیکس ریجیم برآمد کنندگان کے لیے ایک سادہ، شفاف اور بدعنوانی سے پاک نظام رہا ہے۔ تاہم، فنانس ایکٹ 2024 کے تحت نافذ کردہ نارمل ٹیکس ریجیم کاروباری طبقے کے لیے ایک بھاری بوجھ بن چکی ہے۔چیمبر نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ برآمد کنندگان کے لیے فائنل ٹیکس ریجیم کو بحال کیا جائے تاکہ برآمدی شعبے میں تسلسل اور ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔

وفد سے گفتگو کرتے ہوئے معاونِ خصوصی ہارون اختر خان نے کہا کہ حکومت کاروباری برادری کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہے اور ان کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیرِاعظم شہباز شریف نے واضح ہدایات دی ہیں کہ کاروباری طبقے کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔

معاونِ خصوصی نے وفد کو آگاہ کیا کہ نئی صنعتی پالیسی میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے اداروں (SMEs) کی جامع اور معیاری تعریف شامل کرنے کی تجویز دی جائے گی۔ ہارون اختر خان نے زور دیا کہ سرمایہ کاری کے فروغ اور پائیدار صنعتی ترقی کے لیے ایک مستحکم اور قابلِ پیش گوئی پالیسی فریم ورک ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت ایک مستقبل بین صنعتی پالیسی متعارف کرا رہی ہے جو صنعتکاروں کے لیے معاون اور بحالی کا ذریعہ بنے گی۔کاروباری برادری کو درپیش تمام بڑے مسائل آئندہ صنعتی پالیسی کے ذریعے حل کیے جائیں گے۔پاکستان کی موجودہ معاشی صورتحال کے تناظر میں، معاونِ خصوصی نے دیرپا اور مستقل پالیسی فریم ورک کی اشد ضرورت پر زور دیا تاکہ قومی اقتصادی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔