لاہور 21 جولائی(اے پی پی): سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے پنجاب فرانزک سائنس اتھارٹی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ادارے کی کارکردگی اور مستقبل کے اہداف سے متعلق خصوصی اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں ڈی جی فرانزک سائنس اتھارٹی ڈاکٹر محمد امجد اور دیگر اعلیٰ افسران موجود تھے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ اتھارٹی 4.5 ارب روپے کی لاگت سے 700 جدید مشینیں خرید رہی ہے جبکہ 77 سائنسدانوں کی بھرتی کا عمل جاری ہے۔ اتھارٹی کے کامیاب ماڈرنائزیشن پروگرام کے تسلسل پر بھی زور دیا گیا۔ ڈی جی فرانزک نے بتایا کہ پنجاب فرانزک سائنس اتھارٹی عالمی معیار کے مطابق پی این اے سی سے تسلیم شدہ ادارہ ہے جس کی ڈی این اے، فائر آرمز، نارکوٹکس، فنگرپرنٹس، دستاویزات، ٹاکسیکولوجی اور آڈیو ویڈیو اینالسز رپورٹس کو عالمی سطح پر مستند حوالہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ دو سو سے زائد سائنسدان بین الاقوامی اداروں سے تربیت یافتہ ہیں۔ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے ہدایت کی کہ ماڈرنائزیشن اینڈ ایکسٹینشن پروگرام کو 100 فیصد میرٹ پر مکمل کیا جائے اور سائنسدانوں کو عالمی سطح کی جدید تربیت فراہم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ برین ڈرین کو روکنے کے لیے مارکیٹ بیسڈ پرکشش مراعات دی جائیں اور میانوالی، رحیم یار خان، ٹوبہ ٹیک سنگھ کے ایویڈنس رسیونگ یونٹس سمیت گجرات میں کرائم سین یونٹ کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے۔ سیکرٹری داخلہ نے واضح کیا کہ ڈی این اے ڈیٹا بیس کو مزید مضبوط اور جامع بنایا جائے تاکہ جرائم پیشہ عناصر کی فوری نشاندہی ہو سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ پنجاب فرانزک سائنس اتھارٹی کے رزلٹس دنیا بھر میں باعثِ فخر ہیں اور ان میں مزید بہتری اور اعتماد کے لیے جدیدیت کا عمل جاری رہنا چاہیے۔ادھر پنجاب حکومت نے حال ہی میں نئی قانون سازی کے ذریعے فرانزک سائنس ایجنسی کو براہ راست سیاسی کنٹرول میں دے دیا اور ایجنسی کی جگہ پنجاب فرانزک سائنس اتھارٹی قائم کر دی گئی ہے جو وزیراعلیٰ پنجاب کے زیر کنٹرول ہے۔ نئے قانون کے مطابق ڈائریکٹر جنرل کے لیے فرانزک ماہر ہونا لازمی نہیں رہا، جس پر قانونی ماہرین کچھ تشویش کا اظہار بھی کر رہے ہیں، تاہم حکومت نے اس اقدام کو ایجنسی کی اپ گریڈیشن اور امور کی تیز رفتار انجام دہی کے لیے اہم قرار دیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے فرانزک سائنس اتھارٹی کی جدیدیت اور انفراسٹرکچر کے لیے 8 ارب روپے بھی مختص کیے ہیں جبکہ ادارے میں بیوروکریٹس اور متعلقہ ماہرین کی تعیناتی کے ساتھ عالمی معیار کے مطابق کارکردگی کی جانب پیش قدمی جاری ہے۔ سیکرٹری داخلہ نے اتھارٹی کی پیشہ وارانہ خدمات کو سراہتے ہوئے یقین ظاہر کیا کہ جدید آلات، تربیت یافتہ سائنسدانوں اور بہترین ادارتی نظم و نسق کے تحت پنجاب فرانزک سائنس اتھارٹی نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ عالمی معیار کے مطابق خدمات فراہم کرتی رہے گی، اور صوبے میں جرائم کے سدباب اور انصاف کے حصول میں کلیدی کردار ادا کرے۔











