اسلام آباد، 9 اگست ( اے پی پی): وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی، خالد حسین مگسی نے پاکستان میں رومانیہ کے سفیر ڈین اسٹونیسکو سے ملاقات کی ہے، جس میں سائنس، ٹیکنالوجی، اختراع اور تعلیم کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال ہوا۔رومانیہ کے سفیر نے پاکستان کے ساتھ مضبوط شراکت داری کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ملک کی ڈیجیٹل تبدیلی، مصنوعی ذہانت، اور علاقائی تکنیکی شمولیت میں نمایاں پیش رفت کو سراہا اور یورپی یونین کے اہم مالی تعاون یافتہ پروگرامز جیسے ہورائزن یورپ، ایراسمس پلس اور ڈیجیٹل یورپ پروگرام میں پاکستان کو شرکت کی پیشکش کی۔
وفاقی وزیر نے رومانیہ کی عالمی معیار کی ٹیکنالوجی حل فراہم کرنے والی کمپنیوں کی قیادت کو سراہا اور پاکستان کی طرف سے رومانیہ کے ماڈل سے سیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ انہوں نے ملک کی ترقی میں ٹیکنالوجی کے کردار پر زور دیا۔
ملاقات میں طویل المدتی تعاون کے مزید شعبے زیر بحث آئے جن میں یورپی یونین اور خلیجی منڈیوں کو ہدف بنانے والے سافٹ ویئر پروجیکٹس، سائبر سیکیورٹی میں صلاحیت سازی، تعلیمی اور صنعتی تبادلے، اور مصنوعی ذہانت، انٹرنیٹ آف تھنگز، اور بلاک چین میں مشترکہ تحقیقی کام شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، ای گورننس اور ڈیجیٹل سرکاری خدمات کے فروغ کے حوالے سے بھی گفتگو ہوئی۔وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعاون کو دیرپا اور مؤثر بنانے کے لیے ایک جامع طویل المدتی حکمتِ عملی، ادارہ جاتی سطح پر مضبوط شراکت داری، اور تسلسل پر مبنی عملی پروگرامز نہایت اہم ہیں۔دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے سفیر نے وزارت سائنس و ٹیکنالوجی اور رومانیہ کی نیشنل اتھارٹی برائے ڈیجیٹائزیشن اور نیشنل اتھارٹی برائے تحقیق کے درمیان یادداشتِ تفاهم پر دستخط کی تجویز دی۔ دونوں ممالک کے مابین رومانیہ-پاکستان سائنس و ٹیکنالوجی فورم کے قیام پر بھی اتفاق کیا گیا، جس کا خاص فوکس آئی ٹی شعبہ ہوگا۔سفیر نے کہا کہ رومانیہ عملی اور نتیجہ خیز تعاون کے لیے تیار ہے جو پاکستان کی قومی ترجیحات کو فروغ دے اور ہمارے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط کرے۔











