مظفر آباد: وزیراعظم آزادکشمیر کا یوم استحصال کشمیر کے موقع پر قانون ساز اسمبلی سے خطاب

18

‎مظفر آباد، 5  اگست ( اے پی پی): وزیراعظم آزادکشمیر چوہدری انوار الحق نے 5 اگست یوم استحصال کشمیر کے موقع پر قانون ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے 24 کروڑ عوام، آزادکشمیر، مقبوضہ کشمیر اور کشمیری ڈائسپورہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے متحد ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت نے حریت قیادت کے ساتھ مل کر پبلک موبلائزیشن کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا ہے۔

‎چوہدری انوار الحق نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کرنے کے لئے کیے گئے اقدامات کی تعریف کی اور کہا کہ تاریخ ہمیشہ انہیں یاد رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج ہماری محافظ ہیں اور ہم اپنے آئین آزادکشمیر کے تحت تمام بنیادی حقوق کے حامل ہیں

‎وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ 5 اگست 2019 کے بعد پاکستان کی عسکری قیادت نے کشمیر کے مسئلے کے حوالے سے اٹھائے گئے تحفظات کو اپنے لہو سے دھو دیا ہے اور آج مسئلہ کشمیر بین الاقوامی منظرنامے پر ایک فلیش پوائنٹ بن چکا ہے۔ انہوں نے  کہا کہ بھارت نے مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے لئے حلقہ بندیوں میں تبدیلی کی۔

‎انہوں نے کہا کہ اگر آزادکشمیر میں عدم استحکام پیدا کیا گیا تو بھارت اس کا فائدہ اٹھائے گا۔ وزیراعظم آزادکشمیر نے بتایا کہ انہیں اور دیگر ممبران اسمبلی کو دہشت گردی کی دھمکیاں مل چکی ہیں، لیکن وہ اللہ کی مرضی پر مکمل یقین رکھتے ہیں اور زندگی اور موت کا فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔

‎چوہدری انوار الحق نے مہاجرین کی نشستوں کے معاملے کو مسئلہ کشمیر کے خلاف سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے مسائل اٹھانا مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے استحصال سے متعلق نہیں ہے۔ انہوں نے ایوان میں موجود تمام اراکین کو یاد دلایا کہ ہمیں اپنے شہداء کی قربانیوں کا احترام کرنا چاہئے، ورنہ ہم مجرم ٹھہریں گے۔

‎وزیراعظم نے کہا کہ آج ایوان میں سب نے سٹیٹ آف ڈینائل سے باہر آ کر مسئلہ کشمیر پر محاسبہ کرنے کی کوشش کی ہے، اور تمام انتشار پر مبنی بیانیوں کا مقصد تحریک آزادی کشمیر کو کمزور کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے ہمیں مسلح جدوجہد سے بھی دریغ نہیں کرنا چاہیے۔

‎چوہدری انوار الحق نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کا آئین کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیتا ہے، اور ہمیں اپنی سیاسی شناخت کو واضح کرکے اجتماعی طور پر اصلاحات کی طرف قدم بڑھانے کی ضرورت ہے۔

‎انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ حریت قیادت کو گواہ بنا کر یہ عہد کیا کہ ہم تحریک آزادی کشمیر کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے اور اس کے لئے کوئی بھی قربانی دینے سے دریغ نہیں کریں گے۔