وزیرِ اعظم شہباز شریف کی گلگت بلتستان میں 100 میگاواٹ سولر منصوبہ ایک سال میں مکمل کرنے کی ہدایت

13

‎اسلام آباد، 12 اگست ( اے پی پی ):  وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے گلگت بلتستان میں 100 میگاواٹ کے سولر منصوبے کو ترجیحی بنیادوں پر ایک سال میں مکمل کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ وزیرِ اعظم نے اعلان کیا کہ وہ اس اہم منصوبے کی خود نگرانی کریں گے تا کہ بروقت، شفافیت کے ساتھ اور بین الاقوامی معیار کے مطابق مکمل کیا جا سکے۔

‎گلگت بلتستان میں 100 میگاواٹ سولر منصوبے پر جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے  وزیرِ اعظم نے کہا کہ گلگت بلتستان میں کم لاگت، ماحول دوست اور بلاتعطل بجلی کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ علاقے میں 18 سے 20 گھنٹے کی طویل لوڈشیڈنگ کے خاتمے اور دور دراز علاقوں تک بجلی پہنچانے کا سب سے موزوں حل ہے۔

‎اجلاس کو بتایا گیا کہ منصوبے کے تحت گلگت میں 6، سکردو میں 8، اور دیامر میں 6 سولر پارکس تعمیر کیے جائیں گے۔گلگت کی 234، سکردو کی 179 اور دیامر کی 68 عمارتوں پر سولر پینلز نصب کیے جائیں گے۔منصوبے میں بیٹری بیک اپ اور ریئل ٹائم مانیٹرنگ سسٹم شامل ہوں گے تاکہ بجلی کی فراہمی میں تسلسل کو یقینی بنایا جا سکے۔

‎وزیرِ اعظم نے زور دیا کہ منصوبے کا تمام انفراسٹرکچر کلائیمیٹ ریزیلئینٹ (ماحولیاتی اثرات کا مقابلہ کرنے والا) بنایا جائے تاکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے تحفظ حاصل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اپنے انرجی مکس میں زیادہ سے زیادہ قابل تجدید ذرائع کو شامل کرنا ہوگا۔

‎انہوں نے واضح کیا کہ منصوبے کی تمام لاگت وفاقی حکومت برداشت کرے گی اور تعمیر میں مکمل شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا۔

‎وزیرِ اعظم نے منصوبے کی تعمیر کے لیے قائم کردہ اسٹرینگ کمیٹی کی صدارت وزیرِ توانائی سردار اویس خان لغاری کو سونپ دی ہے اور ہدایت کی کہ کام کی رفتار کو مزید تیز کیا جائے تاکہ منصوبہ مقررہ مدت میں مکمل ہو۔

‎وزیرِ اعظم نے یہ اعلان اپنے حالیہ دورہ گلگت کے دوران کیا تھا اور اب ایکنک (ECNEC) سے منظوری کے بعد اس منصوبے پر تیزی سے عملدرآمد شروع ہو چکا ہے۔