اقوام متحدہ ، 11 اگست (ٓے پی پی ): اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ پاکستان کے وزیرِاعظم نے اسرائیلی کابینہ کے غزہ شہر پر قبضہ کرنے کے فیصلے کی سخت مذمت کی ہے، اور اسے فلسطینی عوام کے خلاف پہلے سے جاری تباہ کن جنگ میں ایک خطرناک اضافہ قرار دیا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس برائے مشرقِ وسطیٰ، بشمول مسئلہ فلسطین (اسرائیلی کابینہ کے فیصلے) میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ روز مشترکہ غیر معمولی عرب-اسلامی سربراہی اجلاس کی جانب سے نامزد وزارتی کمیٹی، اور دیگر ممالک بشمول پاکستان، نے اس اعلان کی سخت مذمت اور واضح مستردگی کا اظہار کیا ہے اور اسے ناقابلِ قبول اشتعال انگیزی، بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی، اور طاقت کے زور پر غیر قانونی قبضے کو مضبوط کرنے کی ڈھٹائی سے کی گئی کوشش قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ غزہ ایک ہمہ گیر انسانی المیے سے دوچار ہے۔ تقریباً دو سال سے اسے بلا امتیاز بمباری، مکمل ناکہ بندی، اور دانستہ بھوک و افلاس کا سامنا ہے جبکہ مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس میں تشدد اور بے دخلی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ان حالات میں، اس کونسل کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت اسرائیل سے مطالبہ کرنا چاہیے کہ وہ غزہ شہر پر قبضے کے اپنے اعلان کردہ منصوبے سے باز رہے۔ انہوں نے کہا کہ کونسل کو فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی، یرغمالیوں کی رہائی اور فلسطینی قیدیوں کے تبادلے کا مطالبہ ،بے دخلی اور جارحیت کے مکمل خاتمہ کا مطالبہ کرنا چاہیے ۔ اس کے علاوہ بلا رکاوٹ، بڑے پیمانے پر انسانی امداد کی فراہمی،یروشلم کے مقدس مقامات کی قانونی اور تاریخی حیثیت کے تحفظ۔ کا بھی مطالبہ کرنا چاہیے۔کونسل کو نفاذ کے اقدامات اختیار کرنے چاہئیں، جن میں محصور آبادی کو بچانے کے لیے ایک بین الاقوامی حفاظتی فورس کی تعیناتی شامل ہے۔
سفیر نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے جائز حقوق، بشمول حقِ خودارادیت اور 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر قائم ایک آزاد، قابلِ عمل اور مسلسل ریاستِ فلسطین کے قیام، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو، کی مکمل حمایت دہراتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ فلسطین پر حالیہ اعلیٰ سطحی کانفرنس بروقت تھی۔ اب اسے خطے میں دیرینہ امن و انصاف کے لیے مربوط عالمی عمل سے آگے بڑھانا ضروری ہے۔اس کونسل کو محض بیانات سے آگے بڑھنا ہوگا۔











