گورنر پنجاب کا نیشنل سکول آف پبلک پالیسی میں مصنوعی ذہانت کے حوالے سے منعقدہ کانفرنس سے خطاب

26

لاہور، 27 اگست (اے پی پی): گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے نیشنل سکول آف پبلک پالیسی میں مصنوعی ذہانت کے حوالے سے منعقدہ کانفرنس کی اختتامی تقریب سے خطاب کیا۔ تقریب میں ریکٹر این ایس پی پی جمیل آفاقی، ڈین نوید الہی اور دیگر اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔ گورنر پنجاب نے اپنے خطاب میں کہا کہ سول سرونٹس ہوں، ججز ہوں یا سیاستدان، سب ایک جیسے نہیں ہوتے، پاکستان میں سب سے زیادہ قابل رحم سیاستدان ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ تمام سیاستدان اچھے یا برے نہیں ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ احتساب سیاستدانوں کا ہی ہوتا ہے اور ان کا احتساب عوام، میڈیا، سوشل میڈیا، پرنٹ میڈیا اور حتیٰ کہ سیاستدان خود بھی کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب بھی حکومتیں بدلتی ہیں تو ایک دوسرے پر کرپشن کے الزامات لگائے جاتے ہیں لیکن پیپلزپارٹی جب بھی اقتدار میں آئی تو اداروں کو مضبوط کیا اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ کیا۔ گورنر پنجاب نے سرکاری افسران پر زور دیا کہ وہ اپنے دفاتر کو غریب آدمی کے لیے خدمت کا مرکز بنائیں اور عوام کے ساتھ نرم و شائستہ رویہ اختیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ گورنر ہاؤس عام لوگوں کے لیے کھلا ہے اور انتظامیہ کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ سائلوں کے ساتھ اچھے رویے سے پیش آئیں۔ عوام میں سرکاری افسران کا مثبت تاثر آپ کے کردار اور عمل سے ہی بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت نے زندگی کے ہر شعبے میں انقلاب برپا کر دیا ہے اور اس کی مدد سے موسمیاتی تبدیلیوں سمیت مختلف شعبوں میں تیزی لائی جا سکتی ہے۔ تاہم، پاکستان میں تحقیق پر توجہ نہ دینے پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ دنیا میں مقابلہ کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت پر کام کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔