ملتان۔ 15 ستمبر (اے پی پی):آسٹریلوی ہائی کمشنرنیل ہاکنز کا ملتان میں ڈاؤلینس کے خواتین کی سربراہی میں قائم پہلے سروس سینٹر کا دورہ ،کمپنی کی صارفین پر مرکوز حکمتِ عملی اورخواتین کو سروس و تکنیکی صنعت میں قیادت کے لیے تیار کر نے بارے مختلف سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ آسٹریلوی ہائی کمشنر نے پاکستان کے کاروباری منظرنامے میں شمولیت، جدت اور پائیداری کو فروغ دینے میں ڈاؤلینس کے کردار کو سراہتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا کہ اس طرح کے اقدامات پاکستان میں مضبوط سماجی و اقتصادی ترقی اور صنفی شمولیت کی راہ ہموار کرتے ہیں۔تفصیلات کے مطابق پیر کو پاکستان کے ہوم اپلائنسز میں معروف برانڈ اور آرچِلک کے ذیلی ادارے، ڈاؤلینس کے یہاں خواتین کے زیر قیادت قائم پہلے سروس سینٹر آمد پرآسٹریلوی ہائی کمشنر کا شاندار استقبال کیاگیا۔اس موقع پر ڈاؤلینس کے ڈائریکٹرایچ آر نے گفتگو کرتے ہو ئے کہا کہ ہمیں پاکستان میں خواتین کی قیادت میں قائم پہلے سروس فرنچائز کے آغاز پر بے حد فخر ہے، یہ سنگِ میل صرف ملتان میں صارفین کو عالمی معیار کی بعد از فروخت خدمات فراہم کرنے تک محدود نہیں ہے، بلکہ ان شعبوں میں بھی خواتین کو قیادت کے مواقع فراہم کرنے کے عزم کو ظاہر کرتا ہے جہاں ان کی نمائندگی کم ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈاؤلینس خواتین کو بااختیار بنانے، مقامی صلاحیتوں کو نکھار نے اور ایک زیادہ جامع مستقبل کی تعمیر کے لیے پرعزم ہے،ایسے اقدامات کے ذریعے، ڈاؤلینس نہ صرف خواتین کو بااختیار بنانے اور افرادی قوت میں صنفی تنوع کو فروغ دینے کے اپنے عزم کی تجدید کر رہا ہے، بلکہ پاکستان بھر میں اپنے صارفین کو قابلِ اعتماد بعد از فروخت سروس فراہم کرنے کا سلسلہ بھی کامیابی سے جاری رکھے ہوئے ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ سروس سینٹر،خواتین کی زیر قیادت پاکستان کی پہلی فرنچائز کے طور پر اس لیے تاریخی اہمیت کا حامل ہے کہ اسے دو متاثر کن کاروباری شخصیات، رمشا یعقوب اورعلیزہ رخسانہ کامیابی کے ساتھ چلا رہی ہیں،یہ اقدام خواتین کو بااختیار بنانے اور تکنیکی اور روایتی طور پر مردوں کے غلبے والے شعبوں میں رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے ڈاؤلینس کے مضبوط عزم کی عکاسی کرتا ہے،خواتین کو اپنے سروس آپریشنز میں پیش پیش رکھ کر ڈاؤلینس پورے پاکستان میں انٹرپرینیورشپ اور تکنیکی خدمات میں خواتین کی زیادہ سے زیادہ شرکت کی مثال قائم کر رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ یہ فرنچائز ماڈل نہ صرف خواتین کو کاروباری رہنما کے طور پر بااختیار بناتا ہے بلکہ دیگر نوجوان خواتین کو بھی روایتی طور پر مردوں کے غلبے والے کرداروں میں قدم رکھنے کی ترغیب دیتا ہے ، جس سے شمولیت اور ترقی کی ثقافت کو فروغ ملتا ہے۔











