سکھر۔ 2 ستمبر(اے پی پی) ترجمان سندھ حکومت و میئر سکھر بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہاہے کہ
سیلاب سے بیراجوں کو کوئی خطرہ نہیں، حفاظتی بند مضبوط ہیں دریائے سندھ میں آئندہ دنوں میں تقریباً آٹھ لاکھ کیوسک کے ریلے کی توقع ہے، جبکہ نو لاکھ کیوسک سے زائد کے امکان کے پیش نظر سکھر ڈویڑن میں ہنگامی انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں، سکھر بیراج کی گنجائش 9 لاکھ 60 ہزار کیوسک اور گڈو بیراج کی گنجائش 12 لاکھ کیوسک ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر سپر فلڈ کی صورتحال پیدا ہوئی تو سندھ میں 16 لاکھ افراد، 16051 دیہات، پانچ لاکھ مویشی متاثر ہوسکتی ہیں، جن کے لیے 948 ریلیف کیمپس قائم کیے جاچکے ہیں، تاہم ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ پانی وقفوں سے آئے گا، جس کے باعث صورتحال کو بہتر طور پر کنٹرول کیا جا سکے گا۔
انہوں نے مزیدکہا کہ پیشگی تیاری ہماری خوش قسمتی ہے، حکومت سندھ کی اولین ترجیح عوام کی جان و مال کا تحفظ ہے اور ہم ہر ممکنہ صورتحال کے لیے تیار ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے دیگر صوبوں کے متاثرین کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت اس کٹھن وقت میں ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، متاثرین کے انخلاءکے لیے ایویکیویشن پلان کے تحت کشتیاں، مقامات اور گاڑیاں مختص ہیں، جبکہ ڈی واٹرنگ پمپس اور دیگر مشینری کو الرٹ رکھا گیا ہے، صحت کے شعبے میں پی پی ایچ آئی، پی ڈی ایم اے اور ریسکیو 1122 کی موبائل یونٹس تعینات ہیں، ویکسین، اینٹی وینم اور ایمرجنسی اسٹاک بھی دستیاب ہے، جبکہ اسپتالوں اور یونٹس کے ذریعے فوری علاج اور ریفرل کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔
اس موقع پر ای ڈی سی ٹو بشرا منصور، ڈی ایچ او ڈاکٹر علی گل شاھ کے علاوہ محمکہ آبپاشی، پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، لائیو اسٹاک ودیگر محکموں کے افسران بھی موجود تھے۔











